حیاتِ بقاپوری — Page 249
حیات بقاپوری 249 طلاق حاصل کرتی ایک اور شخص سے نکاح کر لیا جو کہ نا جائز ہے۔زید کے ترکہ میں جو لوگ حقدار ہیں کیا اُن کے درمیان اس کی ہمشیرہ بھی شامل ہے۔یا اس کو حصہ نہیں ملنا چاہئیے ؟ حضرت نے فرمایا کہ اس کو حصہ شرعی ملنا چاہئیے۔کیونکہ بھائی کی زندگی میں وہ اس کے پاس رہی۔اور فاسق ہو جانے سے اس کا حق وراثت باطل نہیں ہو سکتا۔شرعی حصہ اس کو برابر ملنا چاہئیے۔باقی معاملہ اس کا خدا کے ساتھ ہے۔اس کا پہلا خاوند بذریعہ گورنمنٹ باضابطہ کاروائی کر سکتا ہے۔اس کے شرعی حق میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔(بدر ۲۶ ستمبر ۱۹۰۷ء) -۶۔بیوہ کا نکاح کن صورتوں میں ضروری ہے:۔اسی شخص کا یہ سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا۔کہ بیوہ کا نکاح کن صورتوں میں فرض ہے۔اس کے نکاح کے وقت عمر۔اولاد۔موجودہ اسباب نان و نفقہ کا لحاظ رکھنا چاہئے یا کہ نہیں۔یعنی کیا بیوہ باوجود عمر زیادہ ہونے کے یا اولاد بہت ہونے کے یا کافی دولت پاس ہونے کے ہر حالت میں مجبور ہے کہ اس کا نکاح کیا جائے۔فرمایا۔بیوہ کے نکاح کا حکم اسی طرح ہے جس طرح باکرہ کے نکاح کا حکم ہے۔چونکہ بعض قومیں بیوہ کے نکاح کو خلاف عزت خیال کرتی ہیں اور یہ بدرسم بہت پھیلی ہوئی ہے۔اس واسطے بیوہ کے نکاح کے واسطے حکم ہوا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر بیوہ کا نکاح کیا جائے۔نکاح تو اُسی کا ہوگا جو نکاح کے لائق ہے اور جس کے واسطے نکاح ضروری ہے۔بعض عورتیں بوڑھی ہو کر ہوہ ہوتی ہیں۔بعض کے متعلق دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نکاح کے لائق نہیں ہوتیں۔مثلاً کسی کو ایسا مرض لاحق ہے کہ وہ قابل نکاح ہی نہیں۔یا ایک بیوہ کافی اولا د اور تعلقات کی وجہ سے ایسی حالت میں ہے کہ اُس کا دل پسند ہی نہیں کر سکتا کہ وہ اب دوسرا خاوند کرے۔ایسی صورتوں میں مجبوری نہیں کہ عورت کو خواہ مخواہ جکڑ کر خاوند کرایا جائے۔ہاں اس بد رسم کو مٹا دینا چاہیے کہ بیوہ عورت کو ساری عمر بغیر خاوند کے جبرا رکھا جاتا ہے۔۷۰۔متقدمی بنانا حرام ہے:۔( بدره ۱ اکتوبر ۱۹۰۷ء) کسی کا ذکر تھا کہ اُس کی اولاد نہ تھی اور اُس نے ایک اور شخص کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنا کر اپنی جائیداد کا وارث کر دیا