حیاتِ بقاپوری — Page 244
حیات بقا پوری 244 فرمایا کہ۔ناولوں کے متعلق وہی حکم ہے جو آنحضرت نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اشعار کے متعلق فرمایا ہے۔کہ حسنه۔حسن و قبیحہ قبیح اس کا اچھا حصہ اچھا ہے اور قبیح قبیح ہے۔اعمال نیت پر موقوف ہیں مثنوی میں مولوی رومی نے جو قصے لکھے ہیں وہ سب تمثیلیں ہیں در اصل واقعات نہیں ہیں۔ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام تمثیلوں سے کام لیتے تھے۔یہ بھی ایک قسم کے ناول ہیں۔جو ناول نیت صالحہ سے لکھے جاتے ہیں۔زبان عمدہ ہوتی ہے۔نتیجہ نصیحت آمیز ہوتا ہے۔وہ بہر حال مفید ہیں۔انکو حسب ضرورت و موقع لکھنے میں گناہ نہیں۔( بدر ۵ ستمبر ۱۹۰۷ء) ۵۵۔فاتحہ خلف الامام: ایک شخص کا سوال پیش ہوا کیا فاتحہ خلف امام پڑھنا ضروری ہے؟ فرمایا۔ضروری ہے۔( بدر ۱۳ کتوبر ۱۹۰۷ء) ۵۶ رفع یدین: اسی شخص کا سوال پیش ہوا کہ کیا رفع یدین ضروری ہے؟ فرمایا کہ ضروری نہیں۔جو کرے تو جائز ہے۔(بدر ۱۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ء) ۵۷۔بدھ کا روزہ :- سیالکوٹ سے ایک دوست نے دریافت کیا کہ یہاں چاند منگل کی شام کو نہیں دیکھا گیا بلکہ بدھ کو دیکھا گیا ہے۔اس واسطے پہلا روزہ جمعرات کو رکھا گیا تھا۔اب ہم کو کیا کرنا چاہیے۔حضرت نے فرمایا کہ اس کے عوض میں ماہ رمضان کے بعد ایک اور روزہ رکھنا چاہئیے۔(بدر ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ء)