حیاتِ بقاپوری — Page 199
حیات بقاپوری 199 ۱۳۵ اسی طرح ۱۹۵۵ء کا واقعہ ہے کہ با بوعلی احمد صاحب اسٹیشن ماسٹر کا لا گوجراں ضلع جہلم پر ایک مقدمہ کھڑا کیا گیا۔اور انہیں ملازمت سے معطل کر دیا گیا تھا۔انہوں نے مقدمہ میں باعزت بری ہونے کے متعلق دعا کے لئے لکھا۔جس پر میں نے چند یوم متواتر دعا کی تو مجھے خواب میں جتلایا گیا: وہ باعزت بری ہو جائیں گئے میں نے اس کی انہیں اطلاع دی۔اور جب کبھی دوران مقدمہ ان کے خطوط میں مایوسی کی کیفیت نظر آئی تو میں انہیں تسلی دیتا رہا۔آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بری کر دیا۔۱۳۹ ۳۔فروری ۱۹۵۶ء کو چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اپنے ایک عزیز کے ہمراہ میرے مکان پر آئے۔اور کہا کہ برادرم چوہدری محمد سعید صاحب کی حیدرآباد سے تار موصول ہوئی ہے کہ ان کی بیٹی سخت بیمار ہے۔اور حالت بہت تشویش ناک ہے۔اس کی صحت کیلئے دعا فرما ہیں۔میں نے دعا کی تو زبان پر جاری ہوا: عفو جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ صحت یاب ہو جائیگی۔چنانچہ بفضلہ تعالٰی بعد میں وہ صحت یاب ہوگئی۔اس کا ذکر چوہدری صاحب موصوف ایک خط میں یوں کرتے ہیں: نقل خط چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ مورخه ۳ - فروری بروز جمعہ برادرم چوہدری محمد سعید صاحب کی حیدر آباد سے تار موصول ہوئی۔کہ ان کی بیٹی عزیزہ طاہرہ سخت بیمار ہے۔میں حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کی خدمت میں بھی دعا کی درخواست کے واسطے حاضر ہوا۔ایک عزیز بھی میرے ہمراہ تھے۔حضرت مولوی صاحب نے اسی وقت دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ہم بھی شریک ہوئے۔اس کے بعد فرمایا، زبان پر جاری ہوا ہے۔۔ھو جس کا مطلب یہ ہے کہ بچی انشاء اللہ جلد صحت یاب ہو جائے گی۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ترس فرمایا اور بچی کی صحت رو بہ اصلاح ہونے کی اطلاع موصول ہو گئی ہے۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کامل صحت بخشے۔اور یہی کامیاب و با مراد عمر بخشے۔اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کو جزائے خیر دے اور ان کے نافع الناس وجود کو تا دیر صحت وعافیت کے ساتھ سلامت رکھے۔آمین! والسلام چوہدری مشتاق احمد باجوه ) ۲۸ فروری ۱۹۵۶ء ۱۳۷ ۳۔فروری ۱۹۵۶ء کو میں اپنے لڑکوں کی دینی و دینوی برکتوں پر شکر کر رہا تھا۔رات کے ڈیڑھ بجے نماز