حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 15 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 15

حیات بقاپوری 15 نماز ہے۔یہی قرآن ہے۔اور وہاں پر ہر وقت قال اللہ اور قال الرسول کا ذکر رہتا ہے اور دین اسلام کی تقویت اور اشاعت کا کام ہورہا ہے۔یہ بالکل جھوٹ ہے کہ احمدیوں کا کلمہ الگ ہے یا قبلہ علیحدہ ہے یا قرآن نیا ہے یا اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین ہے۔یہ بات سنتے ہی میرے مقتدیوں میں سے جن میں سے بعض دنیاوی لحاظ سے بڑے آدمی کہلاتے تھے اور جن میں سے ایک تھانیدار تھا وہ کہنے لگا کہ تم مرزائی ہو آئے ہو؟ میں نے کہا ہاں میں بیعت کر آیا ہوں۔اس پر وہ کہنے لگا کہ بس خبر داراب جو تو ہمارے مصلحی پر کھڑا ہوا۔میں مصلیٰ سے الگ ہو گیا اور کہا کہ لو میں تو پہلے ہی فیصلہ کر چکا ہوں کہ نہ اب میں تمہارا امام اور نہ ہی تم میرے مقتدی۔کیونکہ اب میں امام الزمان حضرت مہدی علیہ السلام کو مان چکا ہوں اور تم اس امام کے منکر ہو اور جو امام وقت کا منکر ہو وہ فاسق ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔مَن مَّاتَ وَلَم يَعرِف إِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ منه الجاهلية - (ترجمہ) جو شخص اس حالت میں مرتا ہے کہ اُسے امام زمانہ کی شناخت نصیب نہیں ہوتی تو یقینا وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔پس میں تو متقیوں کا امام بنا چاہتا ہوں فاسقوں کا نہیں۔واجعلنی متقین امانا۔(۷۵:۲۵) میرے اس اعلان پر قصبہ میں شور پڑ گیا اور میری مخالفت شروع ہو گئی حتی کہ اہلحدیث مولویوں نے میرا بائیکاٹ کرادیا اور عوام کا لانعام مجھے علانیہ گالی گلوچ دینے پر اتر آئے۔اور میرا ماموں جو میر انسر بھی تھاوہ بھی میرے خلاف ہو گیا اور کہنے لگا کہ میرے گھر سے نکل جاؤ۔میں رات کو لمبے لمبے وقتوں تک نماز تہجد پڑھتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور روتا اور گریہ وزاری کرتا رہتا۔اللہ تعالے کی طرف سے رویائے صالحہ کا سلسلہ جاری ہو گیا اور میری روحانی تسلی کے سامان ہوتے چلے گئے۔میں نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ لوگ خواہ مجھے کتنی ہی تکالیف پہنچا ئیں میں تبلیغ کرنا نہیں چھوڑوں گا اور تمام اہل قصبہ پر حق کو واضح کرتا رہوں گا۔وہ سنیں یا نہ نہیں میں اپنا کام کئے جاؤں گا اور اُن کی مخالفت کی کوئی پروانہ کروں گا۔ایک دن میں مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رکوع میں مجھ پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی زیارت ہوئی انہوں نے فرمایا کہ بیٹا عزم رکھنا۔ایسا ہی ایک دن حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کشف میں ملے۔انہوں نے فرمایا نکند کمنٹ میں نے بھی اسی طرح پختہ عزم کیا تھا۔چونکہ مجھے اس سے پہلے غیر احمدی ہونے کی حالت میں ایسی بشارات پانے کا موقع نہ ملا تھا اور اس قسم کے روحانی نظارے میری آنکھوں نے نہیں دیکھے تھے اس لیے احمدیت اختیار کرنے کے بعد یہ سلوک