حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 139 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 139

حیات بقاپوری 139 سرہانے بیٹھا رورہا ہے اور کہ رہا ہے کہ ہائے میرا باپ مرنے کے قریب ہے میں کیا کروں۔ایک شخص اُسے کہتا ہے کہ جس بڑے ڈاکٹر نے ایسی بیماریوں کے علاج کے لئے آنا تھا وہ آگیا ہے۔اُس کے پاس جا کر اپنے باپ کا علاج کرا۔اس پر بیٹا کہتا ہے کہ ابھی اس کے آنے کا وقت نہیں آیا ہے۔اور وہ اس ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا۔اس کے بعد میں نے کہا کہ آپ لوگ کم از کم ہماری تعلیم اور عمل کی طرف تو دیکھیں کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور آئمہ دین کے مسلک کے مطابق ہے یا نہیں۔اس پر اُن مولوی صاحب نے کہا کہ آپ کی جماعت میں داخل ہو کر آدمی برادری کی شادی غمی میں ایک دوسرے سے تعاون نہیں کر سکتا۔نہ کسی شادی میں تنبول وغیرہ سے مالی مدد کر سکتا ہے اور نہ کسی کی تھی میں مُردے کے لئے صدقہ خیرات کر سکتا ہے۔میں نے کہا شادی اور غمی کی تمام رسوم کو ہم نا جائز نہیں کہتے بلکہ افراط و تفریط سے بچاتے اور ان رسومات سے جن میں کفر وشرک پایا جاتا ہے روکتے ہیں۔چنانچہ اس بارہ میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مندرجہ ذیل تقریر سُنا دی جو ایک سائل کے جواب میں حضور نے فرمائی تھی اور جو بدر۱۷۔جنوری 1996ء میں شائع ہوئی ہے۔قاضی اکمل صاحب نے عرض کیا کہ دیہات میں دستور ہے کہ شادی غمی کے موقع پر ایک قسم کا خرچ کرتے ہیں۔مثلاً جب کوئی چودھری مر جائے تو تمام مسجدوں۔دائروں و دیگر کمیوں کو بحصہ رسدی کچھ دیتے ہیں۔اس کی نسبت حضور کا کیا ارشاد ہے؟ فرمایا طعام جو کھلایا جائے اُس کا مردہ کو ثواب پہنچ جاتا ہے۔گو ایسا مفید نہیں جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں خود کر جاتا۔عرض کیا گیا: حضور وہ خرچ وغیرہ کیوں میں بطور حق الخدمت تقسیم ہوتا ہے۔فرمایا تو پھر کچھ حرج نہیں۔یہ ایک علیحدہ بات ہے کسی کی خدمت کا حق تو دے دینا چاہئیے۔عرض کیا گیا: اس میں فخر ور یا تو ضرور ہوتا ہے۔یعنی دینے والے کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ مجھے کوئی بڑا آدمی کہے۔فرمایا به نیت ایصال ثواب تو پہلے ہی وہ خرچ نہیں حق الخدمت ہے۔بعض ریا شرعا بھی جائز ہیں۔مثلاً چندہ وغیرہ۔نماز جماعت ادا کرنے کا جو حکم ہے۔تو اس لئے کہ دوسروں کو ترغیب ہو۔غرض اظہار واخفاء کے لئے موقع ہے۔اصل بات یہ ہے کہ شریعت سب رسوم کو منع نہیں کرتی۔اگر ایسا ہوتا تو پھر ریل پر چڑھنا۔تار ڈاک کے ذریعہ خبرمنگوا نا سب بدعت ہو جاتے۔