حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 123 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 123

حیات بقاپوری 123 حديث لم يبق من مبشرات النبوة کے معنے بھی یہی ہونگے کہ مبشرات کی ایسی جزور و یا صالحہ ہیں جس میں مبشرات کی حقیقت مفقود ہے۔دیگر بموجب تغیر نبوی مبعض مبشرات اور رویا صالحہ حقیقتا ایک ہی ہیں۔ایسا ہی دیگر بعض مبشرات اور نبوت کا حال ہے۔پھر تیسری غلطی آپ کو یہ لگ رہی ہے کہ متقی منہ کا جوجز وستٹی کے رنگ میں لفظ مذکور ہو اُس کے سوا تمام اجزاء مستقلی منہ کا ہی حکم رکھتے ہیں (یعنی رہے اور لم یبق میں آگئے )۔جس کے باعث آپ اس حدیث کے یوں معنے کرتے ہیں کہ نبوت کے اجزاء میں سے صرف مبشرات کی جزو ہی باقی ہے۔باقی اجزاء نہیں۔حالانکہ یہ بات مخالف احادیث صحیحہ ہے۔مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ لم يكمل من النساء إلا مريم بنت عمران و اسية امرءة فرعون اور وما من بنی آدم مولود الا يمسه الشيطان غير مريم و ابنها ان حدیثوں کے معنے آپ کی سمجھ اور علم کے مطابق یہ ہوئے کہ عورتوں میں سے صرف آسیہ امرءة فرعون اور مریم بنت عمران ہی باکمال ہوئی ہیں۔دیگر سب مستورات ناقصات ہیں۔حتی کہ حضرت عائشہ، خدیجہ، فاطمہ علیمین السلام اور انبیاء علیہم السلام مس شیطان سے نہیں بچے۔بلکہ ہمارے نبی کریم صلم بھی۔کیونکہ آپ کے مستقلی نے حصر کر دیا کہ سوائے آسیہ اور مریم اور ابن مریم کے نہ کوئی مسیں شیطان سے بچا ہے اور نہ کوئی کا ملات گذری ہیں۔یا شاید آپ یوں فرمائیں گے کہ مریم و ابن مریم تو حقیقی طور پر مس شیطان سے محفوظ رہے اور نبی کریم صلعم یا دیگر انبیاء مجازی اور فیملی طور پر مگر ایسا دعوای بلا دلیل ہی ہوگا۔اور اگر یہاں انحصار نہیں، کیونکہ قرآن شریف اور حدیث نے ان کے ماسوا بھی دوسروں کو مس شیطانی سے وعدہ حفاظت کا فرمایا ہے۔اور کاملات بھی گزری ہیں۔(اسی طرح دوسرے مقام پر آنیوالے کو عیسی نبی اللہ کہا گیا ہے ) اس واسطے جب یہاں بھی (لم يكمل میں) انحصار نہیں، تو لم يبق من النبوة الا المبشرات میں بھی اجزاء مبشرات پر انحصار نہ رہا۔پس لم يبق من النبوة کے یہ معنے کرنے کہ نبوت عامہ حقیقیہ میں سے صرف جزو مبشرات ہی باقی ہے، صحیح نہ رہے۔بلکہ جس طرح ان امثال مذکورہ میں انحصار نہیں سمجھا جاتا، اور ان افراد مذکورہ کے ماسوا اور کئی افراد ہزاروں کی تعداد میں ان مذکورین سے بڑھ کر ہیں۔جن پر کا ملات اور عدم میں شیطانی کا اطلاق حقیقتا صادق آتا ہے اور عبارت استثنائیہ میں بھی کوئی فرق نہیں آتا۔اور وہ وجود مستقلی سے ذکر آیا ہر رہ کر بھی اس میں داخل سمجھے گئے ہیں۔تو یہی صورت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے بارے میں سمجھ لیں۔اس حدیث کے صحیح معنے:۔اب ہم حدیث لم يبق من النبوة إلا المبشرات کے اصلی اور حقیقی معنے جو مطابق عقیدہ مسیح موعود