حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 88 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 88

حیات احمد ۸۸ جلد پنجم حصہ دوم کے لطف اٹھا سکتے ہیں۔سلسلہ کلام سیدوں اور ترکوں کے مقام عظمت کا تھا۔چنانچہ جس فقرہ پر ڈکسن آئے اور وہ سلسلہ کلام ختم ہواوہ یہ تھا:۔”ہندوستان میں جب مغل آئے تو انہوں نے مسجدیں بنوائیں اور اپنا قیام کیا النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ کے اثر سے اسلام پھیلنا شروع ہوا اور اب تک بھی حرمین شریفین ترکوں ہی کی حفاظت کے نیچے خدا نے رکھی ہوئی ہے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں خدا تعالیٰ نے دوہی گروہ رکھے ہوئے ہیں ایک ترک، دوسرے سادات ، ترک ظاہری حکومت اور ریاست کے حقدار ہوئے اور سادات کو فقر کا مبدء قرار دیا گیا۔چنانچہ صوفیوں نے فقیر اور روحانی فیوض کا مبدء سادات کو ہی ٹھہرایا ہے اور میں نے بھی اپنے کشوف میں ایسا ہی پایا ہے۔دنیا کا عروج ترکوں کو ملا ہے۔حضرت اقدس یہ ذکر کر رہے تھے کہ ایک یورپین صاحب بہادر اندر آئے اور ٹوپی اتار کر مجلس میں آگے بڑھے اور بڑھتے ہی کہا۔اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ ان کے السلام علیکم کہنے پر مختلف خیال حاضرین مجلس کے دل میں گزرے کسی نے ترک سمجھا اور کسی نے نو مسلم۔صاحب موصوف کو بیٹھے ہوئے ایک منٹ ہی گزرا ہوگا کہ خاں صاحب نواب خاں صاحب تحصیلدار گجرات نے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں؟۔یورپین۔میں سیاح ہوں۔خاں صاحب۔آپ کا وطن؟ یورپین میں اتنی اردو نہیں جانتا اور پھر کچھ سمجھ کر بولا۔اوہاں انگلینڈ۔اتنے میں مفتی محمد صادق صاحب آگئے۔حضرت اقدس کی ایماء سے وہ ترجمان ہوئے اور اس طرح پر حضرت اقدس اور یورپین نو وارد میں گفتگو ہوئی۔حضرت۔آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یورپین۔میں کشمیر سے گلو گیا تھا اور وہاں سے ہوکر اب یہاں آتا ہوں۔حضرت۔آپ کا اصلی وطن کہاں ہے؟