حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 82 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 82

حیات احمد ۸۲ جلد پنجم حصہ دوم پاسداری نہیں کرتے اور اس کے حکموں کو پامال کرتے اور اس کے سامنے بدکاری کرتے اور کھلے جرموں پر اصرار کر کے اُسے غصہ دلاتے ہیں۔دوسرا جب لوگ ان اولوالا مروں کی نافرمانی کرتے ہیں جو مصلحت الہی سے انہیں دیئے جاتے ہیں اور رعیت کے انبار غلہ کے لئے بجائے مُہر کے ہوتے ہیں۔اور رعایا مفسد اور باغی بن جاتی اور اطاعت کی رتی اتار ڈالتی ہے اور معروف باتوں اور جائز امروں میں ان کی مدد نہیں کرتی اور ان کی نسبت بدگمانی کرتی اور لڑائی اور مقابلہ کر کے ان کے معاملات کو درہم برہم کرتی ہے اور وفاداروں اور سعادت مندوں کی طرح ان سے بادب پیش نہیں آتی اور ان کے حکموں کو نہیں مانتی اور خدا کے جوڑے ہوئے کو کاٹنا چاہتے اور دفع کرتے ہیں اُس شے کو، جسے خدا بڑی بھاری مصلحت سے لایا ہے۔تیسرا جب لوگ اس امام کے قبول کرنے میں بخل کریں جو صدی کے سر پر معبوث ہوا اور روشن دلیلوں کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہو اور جان بوجھ کر بخل اور کمینہ پن سے اس کے نشانوں کا انکار کریں اور اس کی ایذا دہی اور تحقیر اور تکفیر کریں اور تیغ وسنان سے اُسے مار ڈالنا چاہیں اور ظلم اور فریب سے حکام تک مقدمے لے جائیں اور اصل بات کو پوشیدہ کر دیں۔چوتھا جبکہ لوگ کیڑوں مکوڑوں کی طرح ایک دوسرے کو کھانے لگ جائیں۔اور ذرا بھی ان میں رحم نہ رہے اور مخلوق پر ترس کھانا اور چھوٹے بڑے کے حق کی رعایت ترک کر دیں۔یاد رکھو نابود کرنے والی طاعون کے یہی چار سبب ہیں۔ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور ہمارے دوستوں کو اپنے فضل سے اس سے محفوظ ر کھے اور میرے نزدیک یہی بڑے سبب ہیں۔مگر دانشمندان اسباب کو سمجھتے ہیں۔سوخدا سے ڈرو اور سلامتی چاہتے ہو تو ان سبوں کے نزدیک نہ جاؤ اور میں نے اس سے پہلے بھی کہا مگر تم نے کان نہ دھرے اور میں نے راہ بتائی پر تم نے ہدایت نہ پائی اور میں نے تم کو دکھایا پر تم نے نہ دیکھا۔آج میرے دل میں آیا ہے کہ پھر ایک دفعہ تمہیں وصیت کر دوں اور اپنی بریت کے لئے حجت پیدا کرلوں۔