حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 81 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 81

حیات احمد ΔΙ جلد پنجم حصہ دوم ۱۹۰۱ء میں طاعونی حملہ نہایت شدت سے ہوا اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اپنے نذیر کو خبر دی تھی کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ تذکره صفحه ۱۴۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء) اور بار بار ان حملوں کے آغاز سے پہلے ہر رنگ میں آپ نے توجہ دلائی مگر مخالف شوخی اور شرارت میں بڑھتے گئے اور عذاب الہی کو قریب کرتے گئے۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر یہ بھی شائع کر دیا تھا کہ طاعون کے حملے بڑے لمبے ہوتے ہیں۔جیسے جیسے طاعون کے حملے میں شدت ہوتی گئی آپ نے لوگوں کو تو بہ اور استغفار کی طرف توجہ دلانے میں کمی نہ کی اور مختلف طریقوں سے ایک پاک تبدیلی اور رجوع الی اللہ کی دعوت دی جس قدر آپ یہ روح پیدا کرنا چاہتے تھے اسی شدت سے لوگ عداوت کے تیر برسا کر عذاب کو قریب اور شدید کر رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے اتمام حجت کے لئے اردسمبر ۱۹۰۱ء کو ایک اور اعلان الطَّاعُون کے عنوان سے عربی ، فارسی اور اردو میں شائع کیا۔آپ نے عربی کا ترجمہ فارسی اور اردو میں بھی خود تحت میں لکھا۔میں یہاں صرف اردو ترجمہ درج کرتا ہوں۔خدا کی حمد اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام، بھائیو! اے دانشمندو!! خدا تعالیٰ تم پر دونوں جہانوں میں رحم کرے۔طاعون نے تمہارے شہروں میں ڈیرے ڈال دیئے اور تمہارے جگروں کو پارہ پارہ کر دیا اور تمہارے بہت سے دوستوں ، باپوں ، بیٹوں ، بیٹیوں اور جوروں اور ہمسائیوں کو اچک کر لے گئی اور تمہارے لئے اس میں خداوند علیم حکیم کی طرف سے بڑا ابتلا اور امتحان ہے اور جو بلا نازل ہوتی ہے اس کے چار ہی سبب ہوتے ہیں۔اور ابتدائے فطرت سے خدا کی سنت اسی طرح پر جاری ہے پہلا یہ ہے کہ جب لوگ خدا کی خوشنودی کی راہوں سے نکل جاتے اور عفت اور عبادت کو چھوڑ کر اس کے حقوق تلف کر دیتے ہیں اور خودی اور گھمنڈ میں زندگی بسر کرتے ہیں اور آخرت کی طرف دھیان نہیں کرتے اور فسق و فجور کی پرواہ نہیں کرتے اور خدا کی حدوں کی