حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 65
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم ذاتی مقصد زیر نظر نہ تھا ابتداء اگر چہ اس کے سرمایہ کے لئے تجارتی رنگ کا اعلان تھا مگر اشاعت سے پہلے ہی جماعت نے اس کے تجارتی پہلو کو اشاعت اسلام کے حقیقی مقصد کا اعلان کر دیا اور جماعت کے اس اخلاص اور یہی جذبہ اشاعت اسلام نے اس میں برکت اور قبولیت پیدا کر دی ایک سال کے اندر نہ صرف اشاعت بڑھ گئی بلکہ اَكْنَافِ عَالَم سے اس کی بلند پروازی کا شہرہ بلند ہوا۔اور بعض مسلم اہل علم نے اس کی پسندیدگی کے اظہار میں آواز بلند کی اور یہ تحسین و آفرین کسی مطالبہ یا درخواست پر نہ تھی بلکہ خود رسالہ کے بلند پایہ مضامین اور ان کے ترجمہ کی خوبی بجائے خوداظہار آفرین پر مجبور کرتے تھے۔چنانچہ رسالہ کے پہلے نمبر میں گناہ سوز فطرت کیسے ملے ؟ اس پر روس کے مشہور و معروف فلاسفر اور مذہبی رہنما کونٹ ٹالسٹائے نے اپنی رائے کا اظہار اس میں مندرجہ مضامین کے متعلق اس طرح پر کیا۔نمونہ کا پرچہ کھولتے ہی میں نے دو مضمون از بس پسند کیا یعنی گناہ سے آزادی کیونکر حاصل ہوتی ہے اور آئندہ زندگی۔خصوصاً دوسرے مضمون کو جو خیال ان مضامین میں ظاہر کیا گیا ہے۔نہایت فاضلانہ اور صحیح ہے۔انگلستان کے مشہور نومسلم شیخ عبد اللہ کو ٹیم نے فارقلیط پر حضرت اقدس کے مضمون کو اپنے اخبار کر لینٹ (ہلال) میں نہایت عزت سے درج کرتے ہوئے اسے فاضلانہ قرار دیا اور اپنے ناظرین کو دلچسپی سے پڑھنے کا اشارہ کیا اس کے بعد بھی ۶ ستمبر ۱۹۰۲ء کے کریسنٹ میں لکھا کہ۔ریویو آف ریلیجنز کا اگست ۱۹۰۲ء کا پرچہ نہایت دلچسپ مضامین سے بھرا ہوا ہے۔آنحضرت عمﷺ کی ذات پاک کے متعلق جو جاہل عیسائی الزام لگایا کرتے ہیں ان کی تردید میں ایک نہایت فاضلانہ مضمون اس میں لکھا گیا ہے۔جس سے بہتر مضمون آج تک ہماری نظر سے نہیں گزرا۔اور ہم پورے زور کے ساتھ اس مضمون کی طرف اپنے ناظرین کو توجہ دلاتے ہیں۔“ غرض نزدیک و دور سے صدائے مرحباو تحسین بلند ہوئی۔