حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 49
حیات احمد ۴۹ جلد پنجم حصہ دوم کی توقع نہ تھی یعنی حاکم کا تصدیق شدہ یہ حکم نکلا کہ اس زمین پر قابض نہ صرف امام الدین ہے بلکہ مرزا غلام مرتضی یعنی میرے والد صاحب بھی قابض ہیں۔تب یہ دیکھنے سے میرے وکیل نے سمجھ لیا کہ ہمارا مقدمہ فتح ہو گیا۔حاکم کے پاس یہ بیان کیا گیا اس نے في الفور وہ انڈیکس طلب کیا اور چونکہ دیکھتے ہی اس پر حقیقت کھل گئی۔اس لئے اس نے بلا توقف امام الدین پر ڈگری زمین کی بمعہ خرچہ کر دی۔اگر وہ کاغذ پیش نہ ہوتا تو حاکم مجوز بجز اس کے کیا کر سکتا تھا کہ مقدمہ کو خارج کرتا اور دشمن بدخواہ کے ہاتھ سے ہمیں تکلیفیں اٹھانی پڑتیں۔یہ خدا کے کام ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور یہ پیشگوئی در حقیقت ایک پیشگوئی نہیں بلکہ دو پیشگوئیاں ہیں۔کیونکہ ایک تو اس میں فتح کا وعدہ ہے اور دوسرے ایک امر مخفی کے ظاہر کرنے کا وعدہ ہے جو سب کی نظر سے پوشیدہ تھا۔۔۔۔ہمارے وکیل نے باوجود کئی پیشیوں کے اس قومی حجت کو پیش نہیں کیا صرف مقدمہ کے آخری مرحلہ پر محض خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ عقدہ کھلا۔چنانچہ ہر ایک شخص جو شیخ خدا بخش کے فیصلہ کو دیکھے گا اس پر فی الفور ظاہر ہو جائے گا کہ مدت تک ہمارا پلیڈ محض سماعی شہادتوں سے کام لیتا رہا جو ایک جوڈیشل فیصلہ کے مقابل پر بیچ تھیں کیونکہ امام الدین مد عاعلیہ نے جس مثل کو اپنا مخصوص قبضہ ثابت کرنے کے لئے پیش کیا تھا۔اُس میں تو صرف امام الدین کا نام تھا۔میرے والد صاحب کا نام نہ تھا۔اس میں بھید یہ تھا کہ غلام جیلانی اصل مالک زمین نے امام الدین پر ہی نالش کی تھی اور اس کی عرضی پر مدعا علیہ صرف امام الدین ہی لکھا گیا تھا اور پھر اطلاع پانے کے بعد میرے والد صاحب نے بذریعہ اپنے مختار کے مد عاعلیہم میں اپنا نام بھی لکھوا دیا تھا۔جس سے مطلب یہ تھا کہ ہم دونوں قابض ہیں اور وہ کاغذات کسی اتفاق سے تلف ہو گئے تھے اور صرف امام الدین کا نام مدعی کے عرضی دعوے پر باقی رہ گیا تھا جس سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ قابض زمین صرف امام الدین ہے۔سو یہی مخفی راز تھا جو ہمیں معلوم نہ تھا اور جب خدا تعالیٰ نے چاہا تو انڈیکس کی مدد سے وہ مخفی حقیقت ظاہر ہوگئی اور جیسا کہ پیشگوئی میں