حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 44
حیات احمد ۴۴ جلد پنجم حصہ دوم يَسْتَبْشِرُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ ابْتَلَاءً مِنْ عِنْدِهِ وَسَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلِبٍ يَنْقَلِبُونَ وَالْعَاقِبَةُ عِنْدَرَتِكَ لِلْمُتَّقِينَ “۔اگر چہ یہ میرا خط ایک بدگمان پر بدیہی اور واضح حجت نہیں ہوسکتا مگر خدا کی بہت سی مخلوق کا ایمان اس سے زیادہ ہوگا۔جنہیں قبل از وقت اس واقعہ کی نسبت ایسے یقینی الفاظ میں لکھا گیا تھا اس خط نے صاف بتادیا کہ ہم نے کتنی مدت پہلے اس وحی کو اس مقدمہ دیوار کی نسبت یقین کیا۔اب میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں اور خدا سے چاہتا ہوں کہ وہ لوگوں کو اس برگزیدہ کی شناخت کی توفیق دے میں نے اس تاریک زمانہ میں خدا کے کلام کے نور کو دوبارہ چمکایا اور نئے سرے خدا کی صفت تکلم کا ثبوت دیا، اور وہ خارق امر پیدا کر دیا جو زندہ اسلام میں اور دوسرے مذہبوں میں مابہ الامتیاز ہے۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم کرے اور سعادت اور رشد کی راہ پر انہیں چلائے کہ سب توفیق اسی کو ہے۔عاجز عبدالکریم از قادیان۔دیوار کا مقدمہ ایک عظیم الشان نشان صداقت تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی زندگی ہر رنگ میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک زندہ ثبوت تھی اور آپ کا یہ فرمانا بالکل ایک حقیقت ثابتی تھی۔آن خدا ئے کہ از و خلق و جہاں بے خبراند بر من او جلوه نمود است گر اہل بپذیر اس لئے آپ کو جن واقعات اور حالات سے گزرنا پڑا وہ ہر واقعہ اپنے رنگ میں ایک دلیل ہے اللہ تعالیٰ کی ہستی کی ، ایک دلیل ہے سلسلہ نبوت کے حق ہونے کی ، ایک دلیل ہے قرآنِ کریم کی حقانیت اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بخش تعلیم صداقت کی۔کچھ شک نہیں دنیا میں ایسے واقعات عام ہوتے ہیں مگر ان میں کا ہر واقعہ دلیل صداقت نہیں ہوتا صرف وہ واقعہ ایک دلیل ٹھہرتا ہے جو ایسے ماحول میں پیدا ہوا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔قبل از وقت ایک فتنہ جدار کی خبر دی گئی اس کی نوعیت اور صورت بیان کر دی گئی۔اور باوجود ہ ترجمہ۔وہ خدا جس سے مخلوق اور لوگ بے خبر ہیں اس نے مجھ پر تجلی کی ہے۔اگر تو عقل مند ہے تو مجھے قبول کر۔