حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 35 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 35

حیات احمد ۳۵ جلد پنجم حصہ دوم ہلاک کرنا چاہتے تھے۔اسی نے انہیں اس بے درد سنگ دل شماتت سے محفوظ رکھا۔جو دشمنوں کے سینوں میں پرورش پاتی اور ایک وقت کے انتظار میں نعل در آتش بیٹھی اور برگزیدوں کی ساحت پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑنے کے لئے سیماب وار تڑپ رہی تھی۔اے قدوس حکیم رب عرش کریم ہمیں توفیق دے کہ تیری اس نعمت کا شکر کریں جو تو نے ہمیں بخشی اور ہم سے ایسے اعمال صالحہ سرزد ہوں جن سے تو راضی ہو جائے اور ہم پر وہ فضل کر جو تو نے آدم سے لے کر ہمارے نبی کریم (ع) تک تمام منعم علیہم پر کئے۔ہاں اے راستبازوں کے ناصر و مولی رحیم وکریم خدا! انعام وافضال کی وہ امانت ہمیں واپس دے جو تیرے مبارک خزانے میں مسیح موعود کی جماعت کے لئے مکنون ومخزون چلی آتی تھی کیا ہم تیرے وعدہ کے موافق تیرے نبی کریم محمدمصطفی احمد مجتبی (ع) کی بلا واسطہ برگزیدہ جماعت نہیں کیا خود تو نے ہمیں ایسے وقت میں جب کہ قوم کے ایک حصہ نے مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی راہ اختیار کر کے اور دوسرے حصہ نے الضالین کا جامہ پہن کر تجھے ناراض کیا ہاں! کیا تو نے ہمیں اپنے لئے چن نہیں لیا؟ تو پھر چمکتی ہوئی اور معجزہ نما نصر تیں ہم پر اتار۔اور وہ وعدے پورے کر جو تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی معرفت کئے اور ہمیں ہر موطن اور میدان میں رسوائی اور نامرادی سے بچا۔آمین یہ دیوار جو فتنہ اور شر کی اینٹوں سے ترکیب تھی۔جنوری ۱۹۰۰ء میں کھڑی کی گئی اور آج ۲۰ را گست ۱۹۰۱ء بروز سه شنبه مطابق ۵ جمادی الاول ۱۳۱۹ھ میں ان موذی مگر بے پر اور ذلیل ہاتھوں سے گرائی گئی۔اس مقدمہ میں ہماری کامیابی خدا تعالیٰ کے وجود کا بڑا بھاری نشان اور اس کے برگزیدوں اور مرسلوں اور برگزیدوں کے صدق دعویٰ کا ثبوت ہے۔اس نشان کے ساتھ بھی وہی لوازم اور حالات اور قرائن ہیں جو اس کی نسبت منجانب اللہ ہونے کا قطعی فیصلہ کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ اور دوسرے صادقوں کی علامات اور آیات کے ساتھ تھے اس مقدمہ کی نسبت بہت مدت اس کے فیصلہ سے پہلے اسی طرح تحری اور شوکت اور صراحت اور وضاحت سے پیشگوئی کی گئی جس طرح ان واقعات اور مقدمات کی نسبت قبل از وقت پیشگوئیاں پیش کی گئیں جو حضرت حامل القرآن (عَلَيْهِ الصَّلَواةُ الرَّحْمن ) کی نبوت ورسالت کا ثبوت ٹھہریں اور وہ قرآن کریم میں مذکور ہیں خدا