حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 25
حیات احمد ۲۵ جلد پنجم حصہ دوم آپ نے فرمایا ”میں اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کرتا مومن کا ہاتھ اوپر ہی پڑتا ہے يَدُ اللهِ فَوْقَ اَيْدِيهِمْ کافروں کی تدبیریں ہمیشہ الٹی ہو کر انہی پر پڑتی ہیں۔مَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُکرِین کے میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ ان لوگوں کو میرے ساتھ ذاتی عداوت اور بغض ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ میں مللِ باطلہ کے رڈ کرنے کے لئے مامور کیا گیا ہوں۔میں جانتا ہوں اور میں اس میں ہرگز مبالغہ نہیں کرتا ملل باطلہ کے رڈ کرنے کے لئے جس قدر جوش مجھے دیا گیا ہے میرا قلب فتویٰ دیتا ہے کہ اس تردید و ابطال ملل باطلہ کے لئے اگر تمام روئے زمین کے مسلمان ایک ترازو کے پلّہ میں رکھے جاویں اور میں اکیلا ایک طرف تو میرا پلہ ہی وزن دار ہو گا۔آریہ عیسائی اور باطل ملتوں کے ابطال کے لئے جب میرا جوش اس قدر ہے پھر اگر ان لوگوں کو میرے ساتھ بغض نہ ہو تو اور کس کے ساتھ ہو۔ان کا بغض اس قسم کا ہے جیسے جانوروں کا ہوتا ہے تین دن ہوئے مجھے الہام ہوا تھا اِنِّی مَعَ الأفْوَاجِ اتِيكَ بَغْتَةً “ میں حیران ہوں کہ یہ الہام مجھے بہت مرتبہ ہوا ہے اور عموماً مقدمات میں ہوا ہے افواج کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مقابل میں بھی بڑے بڑے منصوبے کئے گئے ہیں اور ایک جماعت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا جوش نفسانی نہیں ہوتا ہے اس کے تو انتقام کے ساتھ رحمانیت کا جوش ہوتا ہے۔پس جب وہ افواج کے ساتھ آتا ہے تو اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ مقابل میں بھی فوجیں ہیں جب تک مقابل کی طرف سے جوش انتقام کی حد نہ ہو جاوے خدا تعالیٰ کی انتظامی قوت جوش میں نہیں آتی۔اس کے بعد مقدمہ کے متعلق کچھ اور باتیں ہوتی رہیں لیکن بیچ میں کچھ نصیحتیں اور تقویٰ کی ترغیب اور اس کے خلاف کی ترہیب کی بھی ہوتی رہتی تھیں۔شام کو حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے اور وہ رات اسی طرح پر مقدمہ کے متعلق بعض امور دریافت طلب اور بحث طلب میں مع الخیر گزر گئی۔رات کو خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈ ر پشاور سے تشریف لے آئے۔۱۶ جولائی ۱۹۰۱ء آج دس بجے کے بعد حضرت اقدس کو شہادت میں پیش ہونا تھا فجر کی نماز ل الفتح : ١) آل عمران: ۵۵