حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 24
حیات احمد ۲۴ جلد پنجم حصہ دوم حضرت اقدس گورداسپور میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۱۵ جولائی ۱۹۰۱ء کو اس مقدمہ میں جو مرز انظام الدین وغیرہ پر مسجد کا راستہ جو شارع عام ہے بند کرنے کی وجہ سے کیا گیا ہے فریق ثانی کی درخواست پر بغرض ادائے شہادت جانا پڑا۔دیگر احباب کے ہمراہ خاکسارایڈیٹر الحکم کو بھی ہمرکاب جانے کا فخر تھا اس لئے جو کیفیت اس سفر میں میں نے اپنی آنکھ سے دیکھی اُس کا لطف ناظرین الحکم کو دکھانا بھی ضروری سمجھا اگر چہ وہ کیفیت جو صرف دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے کسی طرح سے بھی زبان قلم سے ادا نہیں ہو سکتی لیکن تاہم جس قدر ممکن ہے بیان کرنا ضروری ہے اس لئے مختصر طور پر عرض کی جاتی ہے۔دار الامان سے روانگی ۱۵ جولائی کی صبح کو حضرت اقدس نے دارالامان سے روانہ ہونے کا حکم دیا چنانچہ حضور کے لئے فٹن (Phaeton) کی سواری تیار کی گئی اور احباب کے لئے یکے کئے گئے دارالامان سے حضرت اقدس معہ زمرہ خدام قریباً ے بجے روانہ ہوئے اور کوئی پاؤ میں تشریف لے گئے۔حضور کی روانگی کا یہ نظارہ بھی قابل دید تھا۔ایک گروہ کثیر خدام کا آپ کو حلقہ میں لئے ہوئے جا رہا تھا۔جس سے اس محبت و عشق کا پتہ ملتا تھا جو آپ کے مریدوں کو آپ سے ہے۔چونکہ حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کو کچھ دیر لگی اس لئے حضور آپ کے انتظار کے لئے ٹھہر گئے آخر مولوی صاحب کے پہنچنے پر احباب یکوں میں اور حضور فٹن میں سوار ہو کر رخصت ہوئے۔گورداسپور کا قیام گورداسپور میں حضرت اقدس نے مولانا مولوی محمد علی صاحب کی تجویز کے موافق ان کے خسر منشی نبی بخش صاحب رئیس گورداسپور کے عالی شان مکان میں قیام فرمایا۔مقدمہ کے متعلق باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور کسی کے یہ کہنے پر کہ فریق مخالف نے بہت بیہودہ جرح کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے