حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 23 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 23

حیات احمد ۲۳ جلد پنجم حصہ دوم پر فرمایا مرزا عظیم بیگ جن قطعات کو لینا چاہیں اور جو فہرست تیار کرائیں اس پر بلا تامل دستخط منظوری کے کر دینا آخری فیصلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو یہ اراضیات ہی نہیں اور بھی دے سکتا ہے۔مرزا صاحب فرماتے تھے مجھے کسی قدر قبض تھی اور میں چاہتا تھا تقسیم اراضیات کے اصول پر ہومگر میں نے آپ کے حکم کی تعمیل میں پس و پیش نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔فیروز پور میں ان کے پاس پنڈت خوشحال رائے پہلے سے گیا ہوا تھا اور وہ مرزا عظیم بیگ کے طرفداروں میں تھے اس نے مجھے تقسیم کے معاملہ میں فہرستوں پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا اور اصرار کیا کہ اچھے قطعات ادھر جا رہے ہیں مگر میں نے کہا کہ میں نے مرزا صاحب کے حکم کی تعمیل کرنی ہے اس بحث میں نہیں پڑنا چنانچہ فوراً دستخط کر دیئے اور اخراجات مقدمہ بھی نہایت قیمتی جائیدادوں کو فرخت کر کے فوراً ادا کر دیئے۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آپ کو مقدمات سے کس قدر نفرت تھی لیکن اس مقدمہ میں جب ہر قسم کی صلح صفائی کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو نہ جائیداد کے حقوق ملکیت کے تحفظ کے لئے بلکہ اس تکلیف کو دور کرانے کے لئے (جس سے ہر روز سینکڑوں انسان متاثر ہوتے تھے ) عدالت دیوانی میں جانا پڑا اور آٹھ ماہ تک جماعت کو اور آپ کو بے حد تکلیف سے گزرنا پڑا۔حضرت اقدس کی شہادت اور مقدمہ کا فیصلہ بالآخران ابتدائی مراحل سے جو دیوانی مقدمات کے لئے لازمی ہیں گزرتے ہوئے حضرت اقدس کی شہادت کا مرحلہ آ گیا۔اس مقدمہ کی قانونی پیروی مکرم حضرت خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم و مغفور اور مکرم حضرت مولوی محمد علی صاحب مرحوم و مغفور بحیثیت وکیل کر رہے تھے۔اس موقعہ پر مختلف جماعتوں کے افراد جمع ہو گئے تھے کپورتھلہ ، امرتسر ،لاہور وغیرہ۔میں نے ان تفصیلات کا ذکرے ار جولائی ۱۹۰۱ ء اور بعد کے اخبار الحکم کے مختلف نمبروں میں کیا ہے۔ان میں سے بعض اقتباسات اس لئے دوں گا کہ ان سے حضرت اقدس کی سیرت ایمانی اور تَوَكَّلْ عَلَى اللہ اور اپنے غالب آنے کے یقین کا انتہائی مقام ثابت ہوتا ہے۔