حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 315 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 315

حیات احمد ۳۱۵ جلد پنجم حصہ دوم اس کتاب (سیف چشتیائی) میں تردید متعلق تفسیر فاتحہ ( یعنی اعجاز المسیح ) جو فیضی صاحب مرحوم و مغفور کی ہے باجازت ان کے مندرج ہے۔چنانچہ فِيمَا بَيْنَ تحریر او نیز مشافہ جہلم میں قرار پاچکا تھا بلکہ فیضی صاحب مرحوم کی درخواست پر میں نے تحریر جواب شمس بازغہ پر مضامین ضرور یہ لاہور میں ان کے پاس بھیج دیئے تھے اور ان کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے نام پر طبع کراد یو یں۔افسوس کہ حیات نے وفا نہ کی اور نہ وہ میرے مضامین مرسلہ لاہور میں مجھے ملے آخر الامر مجھ کو ہی یہ کام کرنا پڑا۔لہذا آپ سے ان کی کتابیں مستعملہ منگوا کر تفسیر کی تردید مندرجہ حسب اجازت سابقہ بغیر ما کی گئی۔آئندہ شاید آپ کو یا مولوی غلام محمد صاحب کو تکلیف اٹھانی پڑے گی۔والسلام ان خطوط اور آرٹیکل کا شایع ہونا تھا کہ ایک ہنگامہ برپا ہوگیا حضرت اقدس تو نزول المسیح میں اس واقعہ کو شائع کرنا چاہتے تھے۔مگر میں نے بحیثیت ایک اخبار نویس اپنی ذاتی ذمہ داری پر شائع کر دینا ضروری سمجھا۔کرم دین سے ان کے رشتہ داروں اور پیر صاحب اور ان کے مریدوں نے تندو تیز لہجہ میں استفسارات شروع کئے اور کچھ شک نہیں اُس پر یہ بڑا امتحان کا وقت تھا کہ وہ ساری مخالفت جو عزیزوں ، رشتہ داروں اور گولڑوی اور اس کے مریدوں کی طرف سے ہونے والی تھی اس کے لئے روک بن گئی کہ وہ صداقت کا اظہار کرے۔اور شہادت حقہ کو ادا کرے چنانچہ اس نے اپنی نجات ان خطوط سے انکار کرنے میں کبھی اور عواقب الامور پر غور نہ کیا۔تھوڑی دیر کے لئے وہ فتنہ جو اس کے خلاف گولڑوی جماعت کی طرف سے پیدا ہونے والا تھا رک گیا۔مگر وہ ایک عذاب الیم کا باعث ہو گیا۔الحکم کے مندرجہ بالا مضمون کے جواب میں اس نے سراج الاخبار جہلم ۶ / او ۱۳ اکتوبر کی اشاعتوں میں طول طویل آرٹیکل لکھے اور ان میں عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق یہ لکھا کہ ( حضرت ) مرزا کی ماہمت آزمانے کے لئے جھوٹے اور خلاف واقعہ خطوط لکھوائے تھے اور فیضی کے نوٹ ایک خام نو لیس لڑکے سے لکھوا کر اس کی طرف منسوب کرائے تھے اور ایک توہین آمیز قصیدہ بھی شائع کیا اور حضرت اقدس کو ایک دھمکی آمیز خط لکھا۔