حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 22
حیات احمد ۲۲ جلد پنجم حصہ دوم جماعت احمد یہ اور حضرت امام کا محاصرہ پچھلی جلد میں میں نے اس عنوان کے تحت اُس دیوار کا ذکر کیا ہے جوے جنوری ۱۹۰۱ء کو آپ کے چچازاد او را بوجہل و ابولہب سے بڑھ کر مخالف بھائیوں نے مساجد اور الدار کے راستہ میں کھڑی کی تھی جس پر ان کا کوئی قانونی یا شرعی حق نہ تھا۔اور نہ خود ان کا کوئی ذاتی فائدہ تھا بلکہ محض شرارت۔حضرت اقدس فطرتاً مقدمہ بازی سے نفرت کرتے تھے اور وہ صلح اور آشتی ہی کو پسند کرتے تھے چنانچہ آپ نے تمام عمر بحیثیت مدعی عدالت میں جانا پسند نہ کیا ماموریت سے قبل اپنے والد صاحب محترم مرحوم کے حکم کی بجا آوری میں برا بِالْوَالِدَین کی تعمیل میں بعض مقدمات میں مجبوراً جانا پڑ امگر آپ نے اپنے عہد سعادت میں کسی پر نالش نہ کی۔پیش آمدہ معاملات جو خاندانی اراضیات اور ان کے حقوق کے متعلق مقدمات کا سلسلہ آپ کے برادر بزرگ مرزا غلام قادر صاحب مرحوم نے کئے اور جن کا سلسلہ اُن کے بعد حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے زمانہ میں جاری رہا اور آخر فریق ثانی کے حق میں صحیح یا غلط ہوا۔جس کی تلافی خود آپ کے عصر سعادت میں ہوگئی کہ وہ اراضیات واپس ہوئیں گو قیمتاً نہ سہی دراصل وہ مقدمات بھی مرزا امام الدین کی شرارت اور سازش کا نتیجہ تھے اس لئے کہ اُسے حضرت اقدس سے انتہائی بغض تھا۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی روایت اس سلسلہ میں اس واقعہ کا بھی اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ جناب مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کے نمبر دار اور جانشین مرزا سلطان احمد صاحب ہی تھے حضرت اقدس کو ان کے معاملات سے تعلق نہ تھا۔چنانچہ اراضی متنازعہ کی تقسیم اور فریق مخالف کے اخراجات مقدمہ کا مرحلہ آیا تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے تقسیم کے کاغذات اور ادائے اخراجات کے متعلق مشورہ چاہا مجھے اس تقسیم کے لئے فیروز پور جانا تھا۔جہاں مرزا عظیم بیگ افسر مال تھے۔اراضی کی تقسیم آسان امر نہیں ہوتا اس کی قسم کے لحاظ سے محل وقوع کے لحاظ سے قیمت کا فرق ہوتا ہے مگر مرزا سلطان احمد صاحب نے میرے عرض کرنے