حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 301
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم بڑا سمندر ہے اور پیچیدہ ہو ہو کر چل رہا ہے جیسے سانپ چلا کرتا ہے۔ہم واپس چلے آئے کہ ابھی راستہ نہیں۔اور یہ راہ بڑی خوفناک ہے۔“ البدر جلدا، نمبر ۲۰۱۰ مورخہ ۲ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۶۔تذکرہ صفحہ ۳۶۷ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) ا إِنِّي صَادِقٌ صَادِقٌ وَسَيَشْهَدُ اللهُ لِي ترجمہ۔میں صادق ہوں ، صادق ہوں عنقریب اللہ تعالیٰ میری شہادت دے گا۔( الحکم مورخہ ۱۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه۴ - البدرجلد نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۷۸،۷۷۔تذکرہ صفحہ ۳۶۷ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) إِنِّي أَنَا الصَّاعِقَةُ - مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نیا اسم ہے آج تک کبھی نہیں سنا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔بے شک۔اسی طرح طاعون کی نسبت جو الہامات ہیں وہ بھی ہیں۔جیسے افطِرُ وَ اَصُومُ ی بھی کیسے لطیف الفاظ ہیں گویا خدا فرماتا ہے کہ طاعون کے متعلق میرے دو کام ہوں گے۔کچھ حصہ چپ رہوں گا یعنی روزہ رکھوں گا اور کچھ افطار کروں گا۔اور یہی واقعہ ہم چند سال سے دیکھتے ہیں۔شدت گرمی اور شدت سردی کے موسم میں طاعون دب جاتی ہے گویا وہ أصُومُ کا وقت ہے اور فروری مارچ ، اکتو بر وغیرہ میں زور کرتی ہے وہ گویا افطار کا وقت ہوتا ہے اور اسی لطیف کلام میں سے ہے۔إِنِّي أَنَا الصَّاعِقَةُ “ البدر جلد نمبرا امورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۸۶۔تذکره صفحه ۳۶۷ مطبوع ۲۰۰۴ء)