حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 298
حیات احمد ۲۹۸ جلد پنجم حصہ دوم اسے پڑھے گا ہر ایک آفت سے اسے نجات ہوگی۔اس خواب کے بعد پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گھوڑے کا سوار ملا جب میں گھر کے قریب آیا تو ایک شخص نے میرے ہاتھ پر پیسے رکھے۔میں نے خیال کیا کہ اس میں دوتی چونی بھی ہوگی۔آگے آیا تو دیکھا کہ فجو ( فضل نشان ) کشمیری عورت بیٹھی ہے۔پھر جب مسجد میں گیا تو دیکھا کہ ہزار ہا آدمی بیٹھے ہیں اور کپڑے سب کے پرانے معلوم ہوتے ہیں مسجد میں اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک جنازہ رکھا ہوا ہے اس کی بڑی سی چار پائی ہے یہ معلوم نہیں کہ کس کا جنازہ ہے۔“ البدر جلد نمبرے مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۵۴۔تذکره صفحه ۳۶۴۳۶۳ مطبوع ۲۰۰۴ء) اس واقعہ لے کے دیکھنے کے ساتھ ہی مجھ کو تفہیم ہوئی کہ کوئی دشمن مقدمہ بر پا کرے گا اور اس کے تین وکیل ہوں گے۔۔۔۔بعد میں کرم دین نے جہلم میں میرے پر مقدمہ کیا اور میری طلبی ہوئی اور وہ مقدمہ فوجداری اور سخت مقدمہ تھا اور جیسا کہ کشفی حالت میں ظاہر کیا گیا تین وکیل اس کے تھے آخر کار بموجب وعدہ الہی وہ مقدمہ اس کا خارج ہوا۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۹۵) ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر وضو کر نے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ زمین پولی کے ہے اور اس کے نیچے ایک غارسی چلی آتی ہے۔میں نے اُس میں پاؤں رکھا تو دھس گیا اور خوب یاد ہے کہ پھر میں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔پھر ایک جست کر کے میں اوپر آ گیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ہوا میں تیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرے کے گول، اور اس قدر بڑا جیسے یہاں سے نواب صاحب کا گھر اور میں اس پر ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر تیر رہا ہوں۔سید محمد احسن صاحب کنارہ پر تھے میں نے ان کو بلا کر کہا کہ دیکھ لیجئے کہ عیسٹی تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل اُن لے یعنی تین بھینسوں والا واقعہ سے یعنی نرم ( خاکسار مرتب)