حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 297
حیات احمد ۲۹۷ جلد پنجم حصہ دوم يَوْمِي هذا لے یعنی یہ میرے اس دن سے پیشتر مرے گا۔یوم سے مراد جمعہ کا دن ہے جو کہ اصل میں خدا کا دن ہے۔البدر جلد نمبر۷ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵۵ - تذکره صفحه ۳۶۳۳۶۲ مطبوع ۲۰۰۴ء) ۱۹۰۲ ء رات کو میری ایسی حالت تھی کہ اگر خدا کی وحی نہ ہوتی تو میرے اس خیال میں کوئی شک نہ تھا کہ میرا آخری وقت ہے۔اسی حالت میں میری آنکھ لگ گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر میں ہوں اور وہ کو چہ سر بستہ سا معلوم ہوتا ہے کہ تین بھینسے آئے ہیں۔ایک اُن میں سے میری طرف آیا تو میں نے اسے مار کر ہٹا دیا۔پھر دوسرا آیا تو اسے بھی ہٹا دیا پھر تیسرا آیا اور وہ ایسا پُر زور معلوم ہوتا تھا کہ میں نے خیال کیا کہ اب اس سے مفر نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت کہ مجھے اندیشہ ہوا تو اس نے اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا میں نے اُس وقت یہ غنیمت سمجھا کہ اس کے ساتھ رگڑ کر نکل جاؤں۔میں وہاں سے بھا گا اور بھاگتے ہوئے خیال آیا کہ وہ بھی میرے پیچھے بھاگے گا مگر میں نے پھر کر نہ دیکھا۔اُس وقت خواب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل پر مندرجہ ذیل دعا القا کی گئی۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظَنِي وَانْصُرُنِي وَارْحَمْنِی کے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ اسم اعظم ہے۔اور یہ وہ کلمات ہیں کہ جو ے حاشیہ مولوی رسل با با امرتسری۔۔۔۔طاعون سے پکڑا گیا اور اس کے عین طاعون کے دنوں میں جمعہ کے روز مجھے الہام ہوا کہ يَمُوتُ قَبْلَ يَوْمِئ هذا یعنی آئندہ جمعہ سے پہلے مرجائے گا۔چنانچہ وہ آئندہ جمعہ سے پہلے ۱۸ دسمبر ۱۹۰۲ء کو ۵ صبح کے اس جہان فانی سے رخصت ہوا۔۔۔پھر ساتھ ہی مجھے یہ الہام ہوا سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ سَلَامٌ عَلَى اَمْرِكَ صِرْتَ فَائِزًا۔یعنی اے ابراہیم تیرے پر سلام تو فتح یاب ہو گیا۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۱۲ ،۳۱۳) ( ترجمہ از مرتب ) اے میرے رب ! ہر ایک چیز تیری خدمت گزار ہے۔اے میرے رب! پس مجھے محفوظ رکھا اور میری مددفرما اور مجھ پر رحم فرما۔سے فرمایہ دعا ایک حرز اور تعویذ ہے۔فرمایا میں اس دعا کواب التزاماً ہر نماز میں پڑھا کروں گا آپ بھی پڑھا کریں۔فرمایا کہ اس میں بڑی بات جو بچی تو حید سکھاتی یعنی الله جَلَّ شَانَهُ کو ہی ضَارَ اور نَافِع یقین دلاتی ہے یہ ہے کہ اس میں سکھایا گیا ہے کہ ہر شے تیری خادم ہے یعنی کوئی موذی اور مضر شئے تیرے ارادے اور اذن کے بغیر کچھ بھی نقصان نہیں کر سکتی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۱ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰)