حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 296
حیات احمد ۲۹۶ جلد پنجم حصہ دوم آج رات مجھے رویا میں دکھایا گیا کہ ایک درخت بار دار اور نہایت لطیف اور خوبصورت پھلوں سے لدا ہوا ہے اور کچھ جماعت تکلف اور زور سے ایک بوٹی کو اس پر چڑھانا چاہتی ہے جس کی جڑ نہیں بلکہ چڑھا رکھی ہے وہ بوٹی افتیمون کی مانند ہے اور جیسے جیسے وہ بوٹی اس درخت پر چڑھتی ہے اُس کے پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس لطیف درخت میں ایک کھجوا ہٹ اور بدشکلی پیدا ہورہی ہے اور جن پھلوں کی اس درخت سے توقع کی جاتی ہے ان کے ضائع ہونے کا سخت اندیشہ ہے بلکہ کچھ ضائع ہو چکے ہیں۔تب میرا دل اس بات کو دیکھ کر گھبرایا اور پگھل گیا اور میں نے ایک شخص کو جو ایک نیک اور پاک انسان کی صورت پر کھڑا تھا پوچھا کہ یہ درخت کیا ہے اور یہ بوٹی کیسی ہے جس نے ایسے لطیف درخت کو شکنجہ میں دبا رکھا ہے۔تب اُس نے جواب میں مجھے یہ کہا کہ یہ درخت قرآن خدا کا کلام ہے اور یہ بوٹی وہ احادیث اور اقوال وغیرہ ہیں جو قرآن کے مخالف ہیں یا مخالف ٹھہرائے جاتے ہیں اور ان کی کثرت نے اس درخت کو دبا لیا ہے اور اس کو نقصان پہنچارہے ہیں۔تب میری آنکھ کھل گئی۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۲ حاشیہ) اسی رات میں ایک الہام ہوا بوقت ۳ بجے ۲ منٹ اوپر اور وہ یہ ہے۔مَنُ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِى نَبْتَلِيْهِ بِذُرِّيَّةٍ فَاسِقَةٍ مُلْحِدَةٍ يَمِيلُونَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَا يَعْبُدُونَنِي شَيْئًا - جو شخص قرآن سے کنارہ کرے گا۔ہم اس کو خبیث اولاد کے ساتھ مبتلا کریں گے جن کی ملحدانہ زندگی ہوگی۔وہ دنیا پر گریں گے۔اور میری پرستش سے ان کو کچھ بھی حصہ نہ ہوگا یعنی ایسی اولاد کا انجام بد ہو گا۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد ۱۹صفحه ۲۱۳ حاشیه )۔جمعہ کے دن جب میں بیمار تھا تو مجھے یہ الہام ہوا تھا۔يَمُوتُ قَبْلَ یعنی ۵/ دسمبر ۱۹۰۲ء کو۔خاکسار مرتب