حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 295 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 295

حیات احمد ۲۹۵ جلد پنجم حصہ دوم پگٹ کے متعلق دعا اور توجہ کرنے سے حضرت اقدس نے رویا میں دیکھا کہ کچھ کتا بیں ہیں جن پر تین بارتی تی تسبیح لکھا ہوا تھا۔پھر الہام ہوا۔وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ إِنَّهُمْ لَا يُحْسِنُونَ۔اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی موجودہ حالت خراب ہے اور یا آئندہ تو بہ نہ کریں گے۔اور یہ معنے بھی اس کے ہیں لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ اور یہ مطلب بھی اس سے ہے کہ اس نے یہ کام اچھا نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ پر یہ افترا اور منصو بہ باندھا اور والله شَدِيدُ الْعِقَابِ ظاہر کرتا ہے کہ اس کا انجام اچھا نہ ہوگا اور عذاب الہی میں گرفتار ہوگا۔حقیقت میں یہ بڑی شوخی ہے کہ خدائی کا دعویٰ کیا جاوے۔“ البدر مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲، صفحه ۲۵ والبدر مورخه ۲۸ نومبر و ۵ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۴۶۔تذکر صفحه ۳۶۰، ۳۶۱ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء۔میں جب اشتہار کو ختم کر چکا۔شاید دو تین سطر میں باقی تھیں تو خواب نے میرے پر زور کیا۔یہاں تک کہ میں مجبوری کا غذ کو ہاتھ سے چھوڑ کر سو گیا۔تو خواب میں مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی نظر کے سامنے آگئے۔میں نے ان دونوں کو مخاطب کر کے یہ کہا۔خُسِفَ القَمَرُ وَالشَّمْسُ فِي رَمَضَانَ۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ یعنی چاند اور سورج کو تو رمضان میں گرہن لگ چکا پس تم اے دونوں صاحبو! کیوں خدا کی نعمت کی تکذیب کر رہے ہو۔پھر میں خواب میں اخویم مولوی عبد الکریم صاحب کو کہتا ہوں کہ الاء سے مراد اس جگہ میں ہوں۔اور پھر میں نے ایک دالان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ اُس میں چراغ روشن ہے۔گویا رات کا وقت ہے اور اُسی الہام مندرجہ بالا کو چند آدمی چراغ کے سامنے قرآن شریف کھول کر اُس سے یہ دونوں فقرے نقل کر رہے ہیں۔گویا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں وہ موجود ہے اور ان میں سے ایک شخص کو میں نے شناخت کیا کہ میاں نبی بخش صاحب رفوگر امرتسری ہیں“۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوای روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰۹ حاشیه )