حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 294
حیات احمد ۲۹۴ جلد پنجم حصہ دوم فرمایا کہ مجھے رویا ہوا ہے۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی سر سے نگا میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے میرے پاس آیا ہے۔اس سے مجھے سخت بدبو آتی ہے۔میرے پاس آ کر کہتا ہے کہ میرے کان کے نیچے طاعون کی گلٹی نکلی ہوئی ہے۔میں اسے کہتا ہوں پیچھے ہٹ جا، پیچھے ہٹ جا۔آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ تفہیم الہی کو ئی نہیں۔“ (البدر جلد نمبر ۵، ۶ مورخه ۲۸ نومبر و ۵ دسمبر ۱۹۰۲، صفحه ۳۴۔تذکره صفحه ۳۶۰ مطبوع ۲۰۰۴ء) ے ارنومبر ۱۹۰۲ء فرما یا رات میں نے خواب میں کچھ بارش ہوتی دیکھی ہے یونہی ترشح سا ہے اور قطرات پڑرہے ہیں مگر بڑے آرام اور سکون سے“ (البدر جلد انمبر ۵، ۶ مورخه ۲۸ نومبر و ۵ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۵۔تذکره صفحه۳۶۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ۷ ارنومبر ۱۹۰۲ء فرمایا کہ نماز ( فجر ) سے کوئی ۲۰ یا ۲۵ منٹ پیشتر میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک زمین خریدی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا نام مقبرہ بہشتی ہے یعنی جو اس میں دفن ہو گا وہ بہشتی ہو گا۔پھر اس کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ کشمیر میں کسر صلیب کے لئے یہ سامان ہوا ہے کہ کچھ پرانی انجیلیں وہاں سے نکلی ہیں۔میں نے تجویز کی کہ کچھ آدمی وہاں جاویں تو وہ انجیلیں لاویں تو ایک کتاب ان پر لکھی جاوے۔یہ سن کر مولوی مبارک علی صاحب تیار ہوئے کہ میں جاتا ہوں مگر اس مقبرہ بہشتی میں میرے لئے جگہ رکھی جاوے۔میں نے کہا کہ خلیفہ نورالدین کو بھی ساتھ بھیج دو۔یہ خواب ہے جو حضرت نے سنایا اور فرمایا کہ اس سے پیشتر میں نے تجویز کی تھی کہ ہماری جماعت کی میتوں کے لئے ایک الگ قبرستان یہاں ہوسو خدا نے آج اس کی تائید کر دی اور انجیل کے معنے بشارت کے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ وہاں سے کوئی بڑی بشارت ظاہر کرے اور جو شخص وہ کام کر کے لائے گا وہ قطعی بہشتی ہے۔البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۵ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۵۔تذکره صفحه ۳۶۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء)