حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 293
حیات احمد ۲۹۳ جلد پنجم حصہ دوم أَقَلْبُ حُسَيْنٍ يَهْتَدِى مَنْ يَظُنُّهُ عَجِيْبٌ وَ عِنْدَ اللَّهِ هَيْنٌ وَّ أَيْسَرُ یا محمد حسین کا دل ہدایت پر آ جائے گا یہ کون گمان کر سکتا ہے؟ عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل اور آسان ہے۔ثَلَاثَةُ أَشْخَاصِ بِهِ قَدْ رَأَيْتُهُمْ وَ مِنْ هُمُ الْهَى بَخْشُ فَاسْمَعُ وَ ذَكَّرُ تین آدمی اس کے ساتھ اور ہیں۔ایک ان میں سے الہی بخش اکاؤنٹنٹ ملتانی ہے پس سن اور سنادے۔اعجاز احمدی ضمیمه نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۶ ۱۶۳) ے۔۲۹ نومبر ۱۹۰۲ء روز شنبہ کو ایک خواب بیان کیا ہے جسے دیکھے ہوئے قریب دو ہفتے گزرے تھے۔وہ خواب یہ ہے کہ ایک مقام پر میں کھڑا ہوں تو ایک شخص آ کر چیل کی طرح جھپٹا مار کر میرے سر سے ٹوپی لے گیا۔پھر دوسری بار حملہ کر کے آیا کہ میرا عمامہ لے جاوے مگر میں اپنے دل میں مطمئن ہوں کہ یہ نہیں لے جاسکتا۔اتنے میں ایک نحیف الوجود شخص نے اسے پکڑ لیا مگر میرا قلب شہادت دیتا تھا کہ یہ شخص دل کا صاف نہیں ہے اتنے میں ایک اور شخص آ گیا جو قادیان کا رہنے والا تھا۔اُس نے بھی اسے پکڑ لیا۔میں جانتا تھا کہ مؤخر الذکر ایک مومن متقی ہے۔پھر اُسے عدالت میں لے گئے تو حاکم نے اسے جاتے ہی ۴ یا ۶ یا 9 ماہ کی قید کا حکم دے دیا۔“ البدر جلد نمبر ۵، ۶ مورخه ۲۸ نومبر و ۵ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۷۔تذکره صفحه ۳۲۴ مطبوع ۲۰۰۴ء) 66 ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ مجھے الہام ہوا تھا اردو زبان میں ” آگ سے ہمیں مت ڈرا۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ جو خدا کا بندہ ہو گا اسے طاعون نہ ہو گی اور جو شخص ضررا ٹھاوے گا اپنے نفس سے اٹھاوے گا۔“ البدر جلد انمبر ۵ و ۶ مورخه ۲۸ نومبر و ۵ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۴۔تذکره صفحه ۳۲۴ مطبوعه ۲۰۰۴ء)