حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 283
حیات احمد ۲۸۳ جلد پنجم حصہ دوم ہو جائے تو اس کا بچ رہنا یقینی کیونکر ہوسکتا ہے ہاں اس میں پھر بھی ایک قسم کی خصوصیت کی گئی ہے کیونکہ جولوگ علو استکبار نہ کریں اُن کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔لیکن اِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ میں یہ امر نہیں وہاں انتشار اور ہلچل شدید سے بچنے کا وعدہ معلوم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسا امر نہیں کرتا جس سے لوگوں کو جرات پیدا ہو جائے اور گناہ کی طرف جھکنے لگیں۔“ احکم جلد ۶ نمبر۷ امورخه ارمئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱،۱۰۔تذکره صفحه ۳۵۰،۳۴۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ا ا رمئی ۱۹۰۲ ء۔آج صبح خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی۔خوشی کا مقام نَصْرٌ مِنَ اللهِ وَفَتَحْ قَرِيب، لا فرمایا۔اب یہ ہماری آمد ثانی ہے اور فرمایا مسیح علیہ السلام کو صلیب کا واقعہ پیش آیا اور خدا تعالیٰ نے انہیں اس سے نجات دی۔ہمیں اس کی مانند صلب یعنی پیٹھ کے متعلقات کے درد سے وہی واقعہ جو پورا موت کا نمونہ تھا پیش آیا۔اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے عافیت بخشی۔اور فرمایا جس طرح تو ریت کا وہ بادشاہ جسے نبی نے کہا کہ تیری عمر کے پندرہ دن رہ گئے ہیں اور اس نے بڑی تضرع اور خشوع سے اگر یہ و بکا کیا۔اور خدا تعالیٰ نے اس نبی کی معرفت اسے بشارت دی کہ اس کی عمر پندرہ روز کی جگہ پندرہ سال تک بڑھائی گئی اور معاً اسے ایک اور خوشخبری دی گئی کہ دشمن پر اُسے فتح بھی نصیب ہو گی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی دو بشارتیں دی ہیں۔ایک عافیت یعنی عمر کی درازی کی بشارت جس کے الفاظ ہیں ”خوشی کا مقام “ دوسری عظیم الشان نصرت اور فتح کی بشارت“۔(الحکم پر چہ غیر معمولی مورخها ارمئی ۱۹۰۲ء بحوالہ تذکره صفحه ۳۵ مطبوعه ۲۰۰۴ء) لے (ترجمہ از مرتب ) اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نصرت اور جلد آنے والی فتح۔در دگردہ تھا۔