حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 279
حیات احمد ۲۷۹ جلد پنجم حصہ دوم لوگوں پر طاعون بھیجیں گے جیسا کہ فرمایا كَذَالِكَ مَتَنَّا عَلَى يُوسُفَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ یعنی ہم طاعون کے ساتھ اس یوسف پر یہ احسان کریں گے کہ بد زبان لوگوں کا منہ بند کر دیں گے تاکہ وہ ڈر کر گالیوں سے باز آ جائیں۔انہی دنوں کے متعلق خدا کا یہ کلام ہے جس میں زمین کی کلام سے مجھے اطلاع دی گئی اور وہ یہ ہے یا وَلِيُّ اللَّهِ كُنتُ لَا أَعْرِفُكَ یعنی اے خدا کے ولی میں اس سے پہلے تجھے نہیں پہنچانتی تھی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ کشفی طور پر زمین میرے سامنے کی گئی اور اس نے یہ کلام کیا کہ میں اب تک تجھے نہیں پہچانتی تھی کہ تو ولی الرحمن ہے۔منہ “ دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۸ ۲۲۹ حاشیه ) چراغ دین کی نسبت میں یہ مضمون لکھ رہا تھا کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھ کو خدائے عزو جل کی طرف سے یہ الہام ہوا۔نَزَلَ بِهِ جَبِيزِ یعنی اس پر جَبِيز نازل ہوا اور اسی کو اس نے الہام یار و یا سمجھ لیا۔جبیز دراصل خشک اور بے مزہ روٹی کو کہتے ہیں جس میں کوئی حلاوت نہ ہو اور مشکل سے حلق میں سے اتر سکے اور مرد بخیل اور لٹیم کو بھی کہتے ہیں جس کی طبیعت میں کمینگی اور فرومایگی اور بخل کا حصہ زیادہ ہو۔اور اس جگہ لفظ جیز سے مراد وہ حدیث النفس اور أَضْغَاثُ الاحلام ہیں جن کے ساتھ آسمانی روشنی نہیں اور بخل کے آثار موجود ہیں اور ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القاء شیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی اس لئے الہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جبیز ہے اور علاج تو بہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلی ہے۔ورنہ جہیز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔منہ 66 ( دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۴۳ حاشیہ نمبرا)