حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 277
حیات احمد ۲۷۷ جلد پنجم حصہ دوم بَا يَعَنِيُّ رَبِّي۔اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ أَوْلَادِي أَنْتَ مِنِيٍّ وَأَنَا مِنْكَ۔عَسَى اَنْ يُبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔اَلْفَوْقُ مَعَكَ وَالتَّحْتُ مَعَ اَعْدَائِكَ فَاصْبِرُ حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ۔يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا احد ترجمہ۔خدا ایسا نہیں کہ قادیاں کے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تو اُن میں رہتا ہے۔وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست بر داور اس کی تباہی سے بچالے گا۔اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مد نظر نہ ہوتا تو میں اس گاؤں کو ہلاک کر دیتا۔میں رحمن ہوں جو دکھ کو دور کرنے والا ہے۔میرے رسولوں کو میرے پاس کچھ خوف اور غم نہیں میں نگہ رکھنے والا ہوں۔میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کو ملامت کروں گا جو میرے رسول کو ملامت کرتا ہے۔میں اپنے وقتوں کو تقسیم کر دوں گا کہ کچھ حصہ برس کا تو میں افطار کروں گا یعنی طاعون سے لوگوں کو ہلاک کروں گا اور کچھ حصہ برس کا میں روزہ رکھوں گا۔یعنی امن رہے گا اور طاعون کم ہو جائے گی یا بالکل نہیں رہے گی۔میر اغضب بھڑک رہا ہے بیماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہوں گی مگر وہ لوگ جو ایمان لائیں گے یادر ہے کہ خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے نہ اُس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا اورنہ کسی کوحق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں۔لیکن یہ فقرہ اس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت کو اپنا ہاتھ قرار دیا اور فرمایا۔يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمُ (الفتح: ۱) ایسا ہی بجاۓ قُل يَا عِبَادَ اللَّهِ کے قُلْ يُعِبَادِ (الزمر (1) کہا اور یہ بھی فرمایا فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقرۃ: ۲۰۱) پس اُس خدا کے کلام کو ہوشیاری اور احتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حواله بخدا کرو اور یقین رکھو کہ خدا اِتَّخَاذِ وَلَد سے پاک ہے تاہم متشابہات کے رنگ میں بہت کچھ اس کے کلام میں پایا جاتا ہے۔پس اس سے بچو کہ متشابہات کی پیروی کرو اور ہلاک ہو جاؤ۔اور میری نسبت بینات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحَدٌ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآن - منه دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۷ حاشیه)