حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 271 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 271

حیات احمد ۲۷۱ جلد پنجم حصہ دوم ۱۹۰۲ء کے الہامات اور کشوف ۱۹۰۲ء کے واقعات کے سلسلہ میں ان الہامات اور کشوف کا ذکر ضروری ہے جو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام پر کلام ربانی کی صورت میں نازل ہوئے اس لئے کہ آئندہ جو محاذ جنگ پیر گولڑوی اور ان کے مریدوں کی طرف سے مولوی کرم الدین نے مقدمات کی صورت میں قائم کیا اس کے متعلق عظیم الشان پیش گوئیاں نہ صرف ان میں موجود ہیں بلکہ آئندہ جو جدید عظیم الشان نشانات ظاہر ہونے والے تھے ان کے متعلق بھی الہامات ہیں اور قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں نازل فرمایا میں نے الحکم میں تو اپنے وقت پر ان کو شائع کر دیا تھا اور وہ بطور ایک عینی شاہد کی حیثیت رکھتا ہے اب میں ان کو تذکرہ سے لے کر شائع کر رہا ہوں تا کہ جب مقدمات کے حالات قارئین کرام پڑھیں تو ان پر اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایک لذیذ ایمان پیدا ہو۔لوگ ان کے متعلق مختلف رائیں رکھتے تھے حضرت اقدس کو ۹ جنوری کی شب کو اس کے متعلق الہام ہوا۔قَدْ جَرَتْ عَادَةُ اللهِ أَنَّهُ لَا يَنْفَعُ الْاَمْوَاتَ إِلَّا الدُّعَاءُ اس وقت رات کے تین بجے ہوں گے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ اس وقت پر میں نے دعا کی تو یا الہام ہوا۔فَكَلَّمُهُ مِنْ كُلِّ بَابٍ وَّ لَنْ يُنْفَعَهُ إِلَّا هَذَا الدَّوَاءُ - (أَي الدُّعَاءُ) اور پھر ایک اور الہام اسی عرب کے متعلق ہوا کہ فَيَتَّبِعُ الْقُرْآنَ إِنَّ الْقُرْآنَ كِتَابُ اللهِ كِتَابُ الصَّادِقِ “ الحکم جلد نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱ / مارچ ۱۹۰۲، صفحہ ۳۔تذکره صفحه ۳۴۰،۳۳۹ مطبوع ۲۰۰۴ء) ( ترجمه از مرتب ) اللہ تعالیٰ کی عادت اس طرح پر جاری ہے کہ مُردوں کو دعا کے سوا اور کوئی چیز نفع نہیں دیتی۔( ترجمہ از مرتب ) اس لئے اس سے ہر رنگ میں گفتگو کرو اور اس دوا ( یعنی دعا) کے سوا کوئی چیز اس پر اثر نہیں کرے گی۔( ترجمہ از مرتب ) اس کے نتیجہ میں وہ قرآن کا اتباع اختیار کر لے گا۔قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔وہ بچے کی کتاب ہے۔(نوٹ) چنانچہ 9 جنوری ۱۹۰۲ء کی صبح کو جب آپ سیر کو نکلے تو حضرت اقدس نے عربی زبان میں