حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 270 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 270

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم بذریعہ اتباع حاصل نہیں۔اس جگہ بعض نادانوں کا یہ اعتراض بھی دفع ہو جاتا ہے کہ وحی الہی کے دعوی کو یہ امر مستلزم ہے کہ وہ وحی اپنی زبان میں ہو نہ عربی میں۔کیونکہ اپنی مادری زبان اس شخص کے لئے لازم ہے جو مستقل طور پر بغیر استفادہ مشکوۃ نبوت محمدی کے دعویٰ نبوت کرتا ہے لیکن جو شخص بحیثیت ایک امتی ہونے کے فیض نبوت محمدیہ سے اکتساب انوار نبوت کرتا ہے وہ مکالمہ الہیہ میں اپنے متبوع کی زبان میں وحی پاتا ہے تا تابع اور متبوع میں ایک علامت ہو جو ان کے باہمی تعلق پر دلالت کرے۔افسوس حضرت عیسی پر ہر ایک طور سے یہ لوگ ظلم کرتے ہیں۔اوّل بغیر تصفیہ اعتراض لعنت کے ان کے جسم کو آسمان پر چڑھاتے ہیں جس سے اصل اعتراض یہودیوں کا ان کے سر پر قائم رہتا ہے۔دوسرے کہتے ہیں کہ قرآن میں ان کی موت کا کہیں ذکر نہیں۔گویا ان کی خدائی کے لئے ایک وجہ پیدا کرتے ہیں۔تیسری نامرادی کی حالت میں آسمان کی طرف ان کو کھینچتے ہیں۔جس نبی کے ابھی باراں حواری بھی زمین پر موجود نہیں اور کار تبلیغ نا تمام ہے اس کو آسمان کی طرف کھینچنا اس کے لئے ایک دوزخ ہے کیوں کہ روح اس کی تکمیل تبلیغ کو چاہتی ہے اور اس کو برخلاف مرضی اس کی آسمان پر بٹھایا جاتا ہے۔میں اپنے نفس کی نسبت دیکھتا ہوں کہ بغیر تکمیل اپنے کام کے اگر میں زندہ آسمان پر اٹھایا جاؤں اور گو ساتویں آسمان تک پہنچایا جاؤں تو میں اس میں خوش نہیں ہوں کیونکہ جب میرا کام ناقص رہا تو مجھے کیا خوشی ہو سکتی ہے۔ایسا ہی ان کو بھی آسمان پر جانے سے کوئی خوشی نہیں مخفی طور پر ایک ہجرت تھی جس کو نادانوں نے آسمان قرار دیا خدا ہدایت کرے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى مشتهـ میرزاغلام احمد قادیانی ۲۷ نومبر ۱۹۰۲ء ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۶ ۲۰ تا ۲۱۶)