حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 18
حیات احمد ۱۸ جلد پنجم حصہ دوم قاضی یوسف علی صاحب نعمانی سررشتہ دارا یگزیکٹوکمیٹی ریاست جیند پانچ مہینے سے سخت بیمار تھے۔بیماری کی حالت میں سنگرور سے بمشکل دار الامان میں حضرت امام کے قدموں میں حاضر ہوئے۔۔۔۔ایک روز وہ سخت بیمار ہوئے۔یعنی ۲۱ / اکتوبر ۱۹۰۱ ء کو ظہر کے وقت سے ان کی حالت متغیر ہوگئی۔قریب تھا کہ روح پرواز کر جائے نبض ایسی کمزور ہوئی کہ گویا ایک کیٹری کی چال سے بھی کم تھی۔۔۔صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی گھبرائے اور حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت اقدس نے تین دوائیں اپنے پاس سے اسی وقت طیار کر کے صاحبزادہ صاحب کو عنایت کیں اور خود دعا کی۔کچھ منٹ ہی گزرے ہوں گے جو حضرت کو دو رویا مبشر اور ایک الہام ہوا۔وہ الہام یہ ہے۔هَذَا عِلَاجُ الْوَقْتِ وَالنِّرْبِسِي“ اس کے معنے یہ ہوئے کہ جو علاج آپ نے کیا یہ ایسے ہی آڑے وقت کا علاج ہے اور بنر بسی جوز ہروں کو دور کرنے والی ہے اس کا استعمال کرو۔سو حضرت اقدس صبح کے وقت بر بسی اپنے ساتھ لائے اور اس کے استعمال کا حکم دیا۔یہ یقینی بات ہے کہ ادھر حضرت اقدس نے دعا کی اور اُدھر الہام اور رویا ہوا اور اُسی وقت جو ایک منٹ کا فاصلہ بھی بیچ میں نہیں بتا سکتے قاضی صاحب میں روح داخل ہوگئی اور آنا فانا میں تندرست ہو گئے۔“ 66 الحکم جلد ۵ نمبر ۳۹ مورخه ۲۴ /اکتوبر ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۵- تذکره صفحه ۳۳۶، ۳۳۷ مطبوع ۲۰۰۴ء) فرمایا۔آج ایک منذر الہام ہوا ہے اور اس کے ساتھ ایک خوفناک رویا بھی ہے وہ الہام یہ ہے۔مَحْمُوم پھر نَظَرْتُ إِلَى الْمَحْمُوْمِ۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۲ ، ۱۷ نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۴) (رات) میں نے دیکھا کہ ایک سپاہی وارنٹ لے کر آیا ہے اور اس نے میرے ہاتھ پر ایک رسی سی پیٹی ہے ، تو میں اُسے کہہ رہا ہوں کہ یہ کیا ہے مجھے تو اس سے ایک لذت اور سر ور آ رہا ہے وہ لذت ایسی ہے کہ میں اُسے بیان نہیں کر سکتا پھر اسی اثنا میں میرے ہاتھ میں معا ایک پروانہ دیا گیا ہے۔کسی نے کہا کہ یہ اعلیٰ عدالت سے آیا ہے وہ پروانہ بہت ہی خوشخط لکھا ہوا تھا اور میرے بھائی L ) والا ( یعنی ایک تپ والا آیا۔سے میں نے اس تپ والے کی طرف دیکھا۔