حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 269
حیات احمد ۲۶۹ جلد پنجم حصہ دوم بیمن اتباع نبوی اس مرتبہ ممکنہ کو پہنچ جائے اور حضرت عیسی کو آسمان سے اتارنے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیونکہ اگر امتی کو بذریعہ انوار محمدی کمالات نبوت مل سکتے ہیں تو اس صورت میں کسی کو آسمان سے اتارنا اصل حقدار کا حق ضائع کرنا ہے اور کون مانع ہے جو کسی امتی کو فیض پہنچایا جائے۔تا نمونہ فیض محمدی کسی پر مشتبہ نہ رہے کیونکہ نبی کو نبی بنانا کیا معنے رکھتا ہے۔مثلاً ایک شخص سونا بنانے کا دعویٰ رکھتا ہے اور سونے پر ہی ایک بوٹی ڈال کر کہتا ہے کہ لو سونا ہو گیا۔اس سے کیا یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ وہ کیمیا گر ہے۔سو آنحضرت ﷺ کے فیوض کا کمال تو اس میں تھا کہ امتی کو وہ درجہ ورزش اتباع سے پیدا ہو جائے ورنہ ایک نبی کو جو پہلے ہی نبی قرار پا چکا ہے امتی قرار دینا اور پھر یہ تصور کر لینا کہ جو اس کو مرتبہ نبوت حاصل ہے وہ بوجہ امتی ہونے کے ہے نہ خود بخود یہ کس قدر دروغ بے فروغ ہے بلکہ یہ دونوں حقیقتیں متناقض ہیں کیوں کہ حضرت مسیح کی حقیقت نبوت یہ ہے کہ وہ براہ راست بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کے ان کو حاصل ہے اور پھر اگر حضرت عیسی کو امتی بنایا جاوے جیسا کہ حدیث اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ سے مترشح ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہر ایک کمال ان کا نبوت محمدیہ سے مستفاض ہے اور ابھی ہم فرض کر چکے تھے کہ کمال نبوت ان کی کا چراغ نبوت محمدیہ سے مستفاض نہیں ہے اور یہی اجتماع نقیضین ہے جو بالبداہت باطل ہے اور اگر کہو کہ حضرت عیسی امتی تو کہلائیں گے مگر نبوت محمدیہ سے ان کو کچھ فیض نہ ہو گا تو اس صورت میں امتی ہونے کی حقیقت ان کے نفس میں سے مفقود ہوگی۔کیوں کہ ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں کہ امتی ہونے کے بجز اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ تمام کمال اپنا اتباع کے ذریعہ سے رکھتا ہو جیسا کہ قرآن شریف میں جابجا اس کی تصریح موجود ہے اور جب کہ ایک امتی کے لئے یہ دروازہ کھلا ہے کہ اپنے نبی ممتبوع سے یہ فیض حاصل کرے تو پھر ایک بناوٹ کی راہ اختیار کرنا اور اجتماع نقیضین جائز رکھنا کس قدر حمق ہے اور وہ شخص کیوں کر امتی کہلا سکتا ہے جس کو کوئی کمال