حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 268 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 268

حیات احمد ۲۶۸ جلد پنجم حصہ دوم براہ راست ملتی ہے اس کا درازہ قیامت تک بند ہے اور جب تک کوئی امتی ہونے کی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا اور حضرت محمدؐ کی غلامی کی طرف منسوب نہیں تب تک وہ کسی طور سے آنحضرت ﷺ کے بعد ظاہر نہیں ہوسکتا تو اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان سے اتارنا اور پھر ان کی نسبت تجویز کرنا کہ وہ اُمتی ہیں اور ان کی نبوت آنحضرت ﷺ کے چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہے کس قدر بناوٹ اور تکلف ہے۔جو شخص پہلے ہی نبی قرار پاچکا ہے اس کی نسبت یہ کہنا کیوں کر صحیح ٹھہرے گا کہ اس کی نبوت آنحضرت کے چراغ نبوت سے مستفاد ہے۔اور اگر اس کی نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مستفاد نہیں ہے تو پھر وہ کن معنوں سے امتی کہلائے گا۔اور ظاہر ہے کہ امت کے معنے کسی پر صادق نہیں آ سکتے جب تک ہر ایک کمال اس کا نبی متبوع کے ذریعہ سے اس کو حاصل نہ ہو۔پھر جو شخص اتنا بڑا کمال نبی کہلانے کا خود بخو درکھتا ہے وہ امتی کیوں کر ہوا بلکہ وہ تو مستقل طور پر نبی ہوگا۔جس کے لئے بعد آنحضرت علی قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔اور اگر کہو کہ پہلی نبوت اس کی جو براہ راست تھی دور کی جائے گی اور اب از سر نو باتباع نبوی نئی نبوت اس کو ملے گی جیسا کہ منشاء آیت کا ہے تو پھر اس صورت میں یہی امت جو خیر الامم کہلاتی ہے حق رکھتی ہے کہ ان میں سے کوئی فرد بعض نیم مثلاً میرے پر اعتراض کر کے کہتے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں یہ خوشخبری دے رکھی ہے کہ تم میں تمیں دجال آئیں گے اور ہر ایک ان میں سے نبوت کا دعویٰ کرے گا۔اس کا جواب یہی ہے کہ اے نادانو! بد نصیبو!! کیا تمہاری قسمت میں تمہیں دجال ہی لکھے ہوئے تھے۔چودھویں صدی کا خمس بھی گزرنے پر ہے اور خلافت کے چاند نے اپنے کمال کی چودہ منزلیں پوری کر لیں جس کی طرف آیت وَالْقَمَرَ قَدَّرْتُهُ مَنَازِلَ (يس: ٢٠) بھی اشارہ کرتی ہے اور دنیا ختم ہونے لگی مگر تم لوگوں کے دجال ابھی ختم ہونے میں نہیں آتے شاید تمہاری موت تک تمہارے ساتھ رہیں گے۔اے نادانو ! وہ دجال جو شیطان کہلاتا ہے وہ خود تمہارے اندر ہے۔اس لئے تم وقت کو نہیں پہچانتے۔آسمانی نشانوں کو نہیں دیکھتے۔مگر تم پر کیا افسوس وہ جو میری طرح موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا اس کا نام بھی خبیث یہودیوں نے دجال ہی رکھا تھا۔فَالْقُلُوبُ تَشَابَهَتُ اللَّهُمَّ ارْحَمُ - منه