حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 267 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 267

حیات احمد ۲۶۷ جلد پنجم حصہ دوم یعنی آنحضرت ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔اب ظاہر ہے لیکن کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارک مافات کے لئے۔سواس آیت کے پہلے حصہ میں جوامر فوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت ﷺ کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔سو لین کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اس طرح تدارک کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے۔اور اب کمال نبوت اسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہوگا اور اس طرح پر وہ آنحضرت علیہ کا بیٹا اور آپ کا وارث ہوگا۔غرض اس آیت میں ایک طور سے آنحضرت ﷺ کے باپ ہونے کی نفی کی گئی علی اور دوسرے طور سے باپ ہونے کا اثبات بھی کیا گیا تا وہ اعتراض جس کا ذکر آیت اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ میں ہے دور کیا جائے۔ماحصل اس آیت کا یہ ہوا کہ نبوت گو بغیر شریعت ہو اس طرح پر تو منقطع ہے کوئی شخص براہ راست مقام نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مکتب اور مستفاض ہو یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے تو امتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمد یہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور اگر اس طور سے بھی تکمیل نفوس مستعدہ امت کی نفی کی جائے تو اس سے نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ دونوں طور سے ابتر ٹھہرتے ہیں نہ جسمانی طور پر کوئی فرزند، نہ روحانی طور پر کوئی فرزند اور معترض سچا ٹھہرتا ہے جو آنحضرت صلعم کا نام ابتر رکھتا ہے۔اب جبکہ یہ بات طے پا چکی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت مستقلہ جو الكوثر : ۴