حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 266 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 266

حیات احمد ۲۶۶ جلد پنجم حصہ دوم احادیث نبویہ بلکلی ضائع ہو جائیں۔ایسا ہی چاہیے کہ نہ تو ختم نبوت آنحضرت صلعم کا انکار کریں اور نہ ختم نبوت کے یہ معنے سمجھ لیں جس سے اس امت پر مکالمات اور مخاطبات الہیہ کا دروازہ بند ہو جاوے۔اور یادر ہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت صلعم وحی پا سکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہو گی مگر نبوت شریعت والی یا نبوت مستقله منقطع ہو چکی ہے۔وَلَا سَبِيلَ إِلَيْهَا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ وَ مَنْ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَادَّعَى أَنَّهُ نَبِيٌّ صَاحِبَ الشَّرِيعَةِ أَوْ مِنْ دُونِ الشَّرِيعَةِ وَلَيْسَ مِنَ الْأُمَّةِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ غَمَّرَهُ السَّيْلُ الْمُنْهَمِرُ فَالْقَاهُ وَرَاءَهُ وَلَمْ يُغَادِرٌ حَتَّى مَاتَت۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلعم خاتم الانبیاء ہیں اسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رو سے ان صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔جیسا کہ وہ جل شانۂ قرآن شریف میں فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدُ ابَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ لے ترجمہ۔نبوت مستقلہ یا نبوت شریعت کے یوم قیامت تک جاری رہنے کی کوئی سبیل نہیں اور جس نے کہا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے نہیں ہوں اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ صاحب شریعت یا بغیر شریعت کے نبی ہے اور وہ امت میں سے نہیں تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کو لگا تار سیلاب نے ڈھانپ لیا ہو اور اسے پرے پھینکا ہو اور اس کو اس وقت نہ چھوڑ اہو جب تک وہ مر نہ جائے۔(ترجمہ از ناشر ) الاحزاب : ۴۱