حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 261
حیات احمد ۲۶۱ جلد پنجم حصہ دوم کہ ظن کوئی چیز نہیں ہے اور جو شخص محض ظن کو پنجہ مارتا ہے وہ مقام بلند حق سے بہت نیچے گرا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا یعنی محض ظن حق الیقین کے مقابلہ پر کچھ چیز نہیں۔پس قرآن شریف تو یوں ہاتھ سے گیا کہ وہ بغیر قاضی صاحب کے فتووں کے واجب العمل نہیں اور متروک اور مہجور ہے اور قاضی صاحب یعنی احادیث صرف ظن کے میلے کچیلے کپڑے زیب تن رکھتے ہیں جن سے احتمال کذب کسی طرح مرتفع نہیں۔کیونکہ ظن کی تعریف یہی ہے کہ وہ دروغ کے احتمال سے خالی نہیں ہوتا پس اس صورت میں نہ تو قرآن ہمارے ہاتھ میں رہا اور نہ حدیث اس لائق کہ اس پر بھروسہ ہو سکے۔گویا دونوں ہاتھ سے گئے یہ غلطی ہے جس نے اکثر لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور صراط مستقیم جس کو ظاہر کرنے کے لئے میں نے اس مضمون کو لکھا ہے یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لئے تین چیزیں ہیں (۱) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور ظن کی آلائشوں سے پاک ہے (۲) دوسری يونس : ۳۷ کے نوٹ۔میں جب اشتہار کو ختم کر چکا شاید دو تین سطریں باقی تھیں تو خواب نے میرے پر زور کیا یہاں تک کہ میں مجبوری کا غذ کو ہاتھ سے چھوڑ کر سو گیا تو خواب میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی نظر کے سامنے آگئے۔میں نے ان دونوں کو مخاطب کر کے یہ کہا خُسِفَ الْقَمَرُ وَالشَّمْسُ فِي رَمَضَانَ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ یعنی چاند اور سورج کو تو رمضان میں گرہن لگ چکا پس تم اے دونوں صاحبو! کیوں خدا کی نعمت کی تکذیب کر رہے ہو۔پھر میں خواب میں اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کو کہتا ہوں کہ الاء سے مراد اس جگہ میں ہوں۔اور پھر میں نے ایک دالان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ اس میں چراغ روشن ہے گویا رات کا وقت ہے اور اسی الہام مندرجہ بالا کو چند آدمی چراغ کے سامنے قرآن شریف کھول کر اس سے یہ دونوں فقرے نقل کر رہے ہیں گویا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں وہ موجود ہے اور ان میں سے ایک شخص کو میں نے شناخت کیا کہ میاں نبی بخش صاحب رفوگر امرتسری ہیں۔منہ