حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 260 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 260

حیات احمد ۲۶۰ جلد پنجم حصہ دوم کو بطور متروک اور مہجور کے قرار دے دیں اور اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ ایسی حدیثوں کو جن کے بیانات کتاب اللہ سے مخالف ہیں یا تو چھوڑ دیں اور یا ان کی کتاب اللہ سے تطبیق کریں پس یہ وہ افراط کی راہ ہے جو مولوی محمد حسین نے اختیار کر رکھی ہے۔اور ان کے مخالف مولوی عبداللہ صاحب نے تفریط کی راہ پر قدم مارا ہے جو سرے سے احادیث سے انکار کر دیا ہے اور احادیث سے انکار ایک طور سے۔قرآن شریف کا بھی انکار ہے۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔قُلْ إنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ لے پس جب کہ خدا تعالیٰ کی محبت آنحضرت ﷺ کی اتباع سے وابستہ ہے اور آنجناب کے عملی نمونوں کے دریافت کے لئے جن پر اتباع موقوف ہے حدیث بھی ایک ذریعہ ہے پس جو شخص حدیث کو چھوڑتا ہے وہ طریق اتباع کو بھی چھوڑتا ہے اور مولوی عبداللہ صاحب کا یہ قول کہ تمام حدیثیں محض شکوک اور ظنون کا ذخیرہ ہے یہ قلت تدبر کی وجہ سے خیال پیدا ہوا ہے اور اس خیال کی اصل جڑ محد ثین کی ایک غلط اور نامکمل تقسیم ہے جس نے بہت سے لوگوں کو دھوکا دیا ہے کیوں کہ وہ یوں تقسیم کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں ایک تو کتاب اللہ ہے اور دوسری حدیث اور حدیث کتاب اللہ پر قاضی ہے گویا احادیث ایک قاضی یا حج کی طرح کرسی پر بیٹھی ہیں اور قرآن ان کے سامنے ایک مستغیث کی طرح کھڑا ہے اور حدیث کے حکم کے تابع ہے۔ایسی تقریر سے بے شک ہر ایک کو دھوکا لگے گا کہ جب کہ حدیثیں سوڈیڑھ سو برس آنحضرت ﷺ کے بعد جمع کی گئی ہیں اور انسانی ہاتھوں کے مس سے وہ خالی نہیں ہیں اور با ایں ہمہ وہ اکا دکا ذخیرہ اور ظنی ہیں اور ان میں قسم متواترات شاذ و نادر جو حکم معدوم کا رکھتی ہیں اور پھر وہی قرآن شریف پر قاضی بھی ہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ تمام دین اسلام ظنیات کا ایک تو وہ اور انبار ہے اور ظاہر ہے آل عمران : ۲۳