حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 243 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 243

حیات احمد ۲۴۳ جلد پنجم حصہ دوم یہی دلیل پیش کی تھی تو پادری فنڈل صاحب کو اس کا جواب نہیں آیا تھا اور باوجود یکہ تواریخ کی ورق گردانی میں یہ لوگ بہت کچھ مہارت رکھتے ہیں مگر وہ اس دلیل کے توڑنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کر سکا اور لا جواب رہ گیا۔اور آج حافظ محمد یوسف صاحب مسلمانوں کے فرزند کہلا کر اس قرآنی دلیل سے انکار کرتے ہیں اور یہ معاملہ صرف زبانی ہی نہیں رہا بلکہ ایک ایسی تحریر اس بارے میں ہمارے پاس موجود ہے جس پر حافظ صاحب کے دستخط ہیں جو انہوں نے محبی آخویم مفتی محمد صادق صاحب کو اس عہد اقرار کے ساتھ دی ہے کہ ہم ایسے مفتریوں کا ثبوت دیں گے جنہوں نے خدا کے مامور یا نبی یا رسول ہونے کا دعوی کیا اور پھر وہ اس دعوی کے بعد تئیس برس سے زیادہ جیتے رہے۔یادر ہے کہ یہ صاحب مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے گروہ میں سے ہیں اور بڑے موحد مشہور ہیں اور ان لوگوں کے عقائد کا بطور نمونہ یہ حال ہے جو ہم نے لکھا اور یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ قرآن کے دلائل پیش کردہ کی تکذیب قرآن کی تکذیب ہے۔اور اگر قرآن شریف کی ایک دلیل کو ردّ کیا جائے تو امان اٹھ جائے گا اور اس سے لازم آئے گا کہ قرآن کے تمام دلائل جو تو حید اور رسالت کے اثبات میں ہیں سب کے سب باطل اور بیچ ہوں اور آج تو حافظ صاحب نے اس رڈ کے لئے یہ بیڑہ اٹھایا کہ میں ثابت کرتا ہوں کہ لوگوں نے تئیس برس تک یا اس سے زیادہ نبوت یا رسالت کے جھوٹے دعوے کئے اور پھر زندہ رہے اور کل شاید حافظ صاحب یہ بھی کہہ دیں کہ قرآن کی یہ دلیل بھی کہ لَوْ كَانَ فِيْهِمَا أَلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَال باطل ہے اور دعوی کریں کہ میں دکھلا سکتا ہوں کہ خدا کے سوا اور بھی چند خدا ہیں جو بچے ہیں۔مگر زمین و آسمان پھر بھی اب تک موجود ہیں۔پس ایسے بہادر حافظ صاحب سے سب کچھ امید ہے لیکن ایک ایماندار کے بدن پر لرزہ شروع ہو جاتا ہے جب کوئی یہ بات زبان ا الانبياء : ۲۳