حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 241 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 241

حیات احمد ۲۴۱ جلد پنجم حصہ دوم میں نظیر ا پیش کر سکتا ہوں۔جنہوں نے نبی یا رسول یا مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا اور تیئیس برس تک یا اس سے زیادہ عرصہ تک لوگوں کو سناتے رہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام ہمارے پر نازل ہوتا ہے حالانکہ وہ کا ذب تھے۔غرض حافظ صاحب نے محض اپنے مشاہدہ کا حوالہ دے کر مذکورہ بالا دعویٰ پر زور دیا جس سے لازم آتا تھا کہ قرآن شریف کا وہ استدلال جو آیات مندرجہ ذیل میں آنحضرت علہ کے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں ہے صحیح نہیں ہے اور گویا خدا تعالیٰ نے سراسر خلاف واقعہ اس حجت کو نصاریٰ اور یہودیوں اور مشرکین کے سامنے پیش کیا ہے اور گویا ائمہ اور مفسرین نے بھی محض نادانی سے اس دلیل کو مخالفین کے سامنے پیش کیا یہاں تک کہ شرح عقائد نسفی میں بھی کہ جو اہل سنت کے عقیدوں کے بارے میں ایک کتاب ہے عقیدہ کے رنگ میں اس دلیل کولکھا ہے اور علماء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ استخفاف قرآن یا دلیل قرآن کلمہ کفر ہے۔مگر نہ معلوم کہ حافظ صاحب کو کس تعصب نے اس بات پر آمادہ کر دیا کہ با وجود دعویٰ حفظ قرآن مفصلہ ذیل آیات کو بھول گئے اور وہ یہ ہیں:۔انہ تَقَوْلُ رَسُوْلِ كَرِيمٍ وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِيْنَ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ نَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِينَ دیکھو سورة الحاقه الجز و نمبر ۲۹ اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن کلام رسول کا ہے یعنی وحی کے ذریعہ سے اس کو پہنچا ہے۔اور یہ شاعر کا کلام نہیں مگر چونکہ تمہیں ایمانی فراست سے کم حصہ ہے اس لئے تم اس کو پہچانتے نہیں اور یہ کا ہن کا کلام یعنی اس کا کلام نہیں جو جنات سے کچھ تعلق رکھتا ہو۔مگر تمہیں تدبر اور تذکر کا بہت کم حصہ دیا گیا ہے اس لئے ایسا خیال کرتے ہو تم نہیں سوچتے کہ کا ہن کس پست اور ذلیل حالت میں ہوتے ہیں بلکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے۔جو عالم اجسام اور عالم ارواح دونوں کا الحاقة: ۴۱ تا ۴۸ ط