حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 240
حیات احمد ۲۴۰ جلد پنجم حصہ دوم ابتداء مخلص تھے مگر جب الہی بخش کو ابتلا آیا تو یہ سب اسی رو میں بہ گئے۔راقم الحروف ( خاکسار عرفانی ) کو اس جماعت کے تمام افراد سے ذاتی تعارف ہی نہیں بے تکلفی تھی اور حافظ محمد یوسف صاحب کو تو ڈپٹی کلکٹری کے امتحان کے لئے قانون یاد کرایا تھا اس لئے وقتا فوقتا میں اُن سے ملتا اور اُس رَجْعَت قہقری پر اُن کی غلطیوں کو واقف کرتا۔اس سلسلہ میں ان سے بمقام لا ہور ایک مجلس میں گفتگو کا موقعہ آیا اور اس میں موضوع زیر بحث معیار صداقت تھا۔میری یہ ملاقات تنہا نہ تھی بلکہ ایک وفدا کا بر سلسلہ کا تھا۔یہ گفتگو لنگے منڈی کی مسجد میں ہوئی جہاں حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب امامت کرایا کرتے تھے اور حضرت میاں چراغ دین صاحب کے خاندان کی گویا مسجد تھی۔گفتگو کا آغاز خاکسار سے ہوا اور حضرت اقدس کی صداقت میں قرآن کریم سے میں نے سورۃ الحاقہ کی آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَینا پیش کی اور وہی ایک لمبے سلسلہ مخالفت کا پیش خیمہ ہو گئی۔چنانچہ اس واقعہ کو حضرت اقدس نے پانچ سورو پید انعامی اشتہار میں ذکر کیا اور ان تمام علماء مخالفین کو چیلنج دیا ان کے نام اس اشتہار میں درج ہیں فرمایا۔واضح ہو کہ حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر نے اپنے نافہم اور غلط کار مولویوں کی تعلیم سے ایک مجلس میں بمقام لاہور جس میں مرزا خدا بخش صاحب مصاحب نواب محمد علی خاں صاحب اور میاں معراج الدین صاحب لاہوری اور مفتی محمد صادق صاحب اور صوفی محمد علی کلرک اور میاں چٹو صاحب لاہوری اور خلیفہ رجب دین صاحب تاجر لاہوری اور شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر اخبار الحکم اور حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور حکیم محمد حسین صاحب تاجر مرہم عیسی اور میاں چراغ الدین صاحب کلرک اور مولوی یار محمد صاحب موجود تھے بڑے اصرار سے یہ بیان کیا کہ اگر کوئی نبی یا رسول یا اور کوئی مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعوی کرے اور اس طرح پر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے تو وہ ایسے افترا کے ساتھ تئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے۔یعنی افتر اعلی اللہ کے بعد اس قدر عمر پانا اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہوسکتی اور بیان کیا کہ ایسے کئی لوگوں کا نام الحاقة: ۴۵