حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 218 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 218

حیات احمد ۲۱۸ جلد پنجم حصہ دوم یہ پیشگوئی چراغ دین کی موت سے تین برس پہلے کی گئی تھی جیسا کہ رسالہ دافع البلاء کی تاریخ طبع سے ظاہر ہے اور مجھے اس وقت یاد نہیں کہ میں پہلے بھی اس پیشگوئی کولکھ آیا ہوں یا نہیں اگر پہلے لکھی گئی ہے تو یہ نشان اس کتاب میں گزر چکا ہے اور اس جگہ اس نشان کا مکرر لکھنا دوسری پیشگوئی کی تصریح کے لئے ضرور تھا بہر حال اس پیشگوئی سے تین برس بعد چراغ دین مر گیا اور غضب اللہ کی بیماری سے یعنی طاعون کی بیماری سے اس کی موت ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ طاعون کے رسالہ میں بھی یعنی دافع البلاء میں یہ پیشگوئی لکھی ہے اور اس پیشگوئی کا اہم پہلونشان چراغ دین کا خود اپنا مباہلہ ہے اس لئے ہم وہ نشان الگ طور پر اس پیشگوئی کے ساتھ ہی ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے۔یہ نشان چراغ دین کے مباہلہ کا نشان ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب کہ چراغ دین کو بار بار یہ شیطانی الہام میری نسبت ہوئے کہ یہ شخص دجال ہے اور اپنی نسبت یہ الہام ہوا کہ وہ اس دقبال کو نابود کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور حضرت عیسی نے اس کو اپنا عصا دیا ہے تا اس عصا سے اس دجال کو قتل کرے تو اس کا تکبر بہت بڑھ گیا اور اس نے ایک کتاب بنائی اور اس کا نام منارة مسح رکھا اور اس میں بار بار اسی بات پر زور دیا کہ گویا میں حقیقت میں موعود د قبال ہوں اور پھر جب منارۃ اُسیح کی تالیف پر ایک برس گزر گیا تو اس نے مجھے دقبال ثابت کرنے کے لئے ایک اور کتاب بنائی اور بار بار لوگوں کو یاد دلایا کہ یہ وہی دجال ہے جس کے آنے کی خبر احادیث میں ہے اور چونکہ غضب الہی کا وقت اس کے لئے قریب آ گیا تھا اس لئے اس نے اس دوسری کتاب میں مباہلہ کی دعا لکھی اور جناب الہی میں دعا کر کے میری ہلاکت چاہی اور مجھے ایک فتنہ قرار دے کر خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ تو اس فتنہ کو دنیا سے اٹھا دے یہ عجیب قدرت حق اور عبرت کا مقام ہے کہ جب مضمون مباہلہ اس نے کاتب کے حوالہ کیا تو وہ کا پیاں ابھی پتھر پر نہیں جمی تھیں کہ دونوں لڑکے اس کے جو صرف دو ہی تھے طاعون