حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 187 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 187

حیات احمد IAZ جلد پنجم حصہ دوم کا ذکر کیا جن میں ایک مہمان خانہ اور مہمان داری کے لوازمات تھے۔یا تو یہ وقت تھا کہ کبھی کبھار کوئی مہمان آجاتا اور یا یہ سلسلہ روز بروز بڑھتا گیا۔اسی سلسلہ میں آپ کو مکانات کی توسیع کا بھی الہام ہوا جو کثرت سے مہمانوں کے آنے پر دلالت کرتا تھا ان بشا رات کے نتیجہ میں ۱۹۰۱ء میں بیس ہزار کے قریب مہمان آئے جیسا کہ الحکم مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۰۲ء میں میں نے شائع کیا کہ سال بھر میں آنے والوں کی تعداد بیس ہزار سے کم نہیں گو یا اوسطاً ڈیڑھ ہزار مہمان ماہانہ آتے جاتے رہے اور لنگر خانہ کی ضروریات کے علاوہ مہمان خانہ کی ضروریات مزید برآں اس لئے آپ نے الہی سلسلوں کے آئین و طرز عمل کے موافق ۵/ مارچ ۱۹۰۲ء کو یہ اعلان شائع کیا۔اس بات سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے الہی سلسلے تربیت انسانی کے لئے انصار اللہ کو پکارتے ہیں تا کہ وہ صحیح طریق عمل انفاق فی سبیل اللہ کا سمجھ لیں اور ان کے دل سے مال کی قیمت باقی نہ رہے ورنہ الہی سلسے محتاج نہیں ہوتے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ لنگر خانہ کے انتظام کے لئے چونکہ کثرت مہمانوں اور حق کے طالبوں کی وجہ سے ہمارے لنگر خانہ کا خرچ بہت بڑھ گیا ہے اور گل میں نے جب لنگر خانہ کی تمام شاخوں پر غور کر کے اور جو کچھ مہمانوں کی خوراک اور مکان اور چراغ اور چار پائیاں اور برتن اور فرش اور مرمت مکانات اور ضروری ملازموں اور سقا اور دھوبی اور بھنگی اور خطوط وغیرہ ضروریات کی نسبت مصارف پیش آتے رہتے ہیں۔ان سب کو جمع کر کے حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ ان دنوں میں آٹھ سو روپیہ اوسط ماہواری خرچ ہوتا ہے۔اس خرچ کے لئے خاص خدا تعالیٰ نے ہی ایسے اتفاقات پیش کئے کہ اب تک ہمیں محض خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے کوئی فاقہ نہیں آیا۔مگر چونکہ ہر ایک امر جس کے ساتھ کوئی انتظام نہیں موجب ابتلا ہوتا ہے۔اور سلسلہ غموں کا اندازہ سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اس لئے اس پر تشویش وقت میں کہ جب