حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 9 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 9

حیات احمد ١٩٠١ء کے واقعات اور حالات ابتدائی بیان جلد پنجم حصہ دوم سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ اور بانی سلسلہ احمدیہ (علیہ السلام ) کے حالات زندگی کی رفتا را پنی نوعیت میں طبعاً اس رنگ کا مظاہرہ کرتی ہے جو ابتدائے آفرینش سے ہر الہی سلسلہ کے لازم ہے قرآن مجید نے الہی سلسلوں کی ایک مثال دی ہے سورۃ الفتح پارہ ۲۶ آیت آخری وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْئَهُ فَازَرَهُ فَاسْتَغْلَظُ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزَّرَّاعَ لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ لا یعنی حق یا الہی سلسلہ کی مثال ( جو انجیل میں دی ہے ) اس کھیتی کی طرح ہے جو اپنی سوئی کو نکالتی ہے پھر اسے مضبوط کرتی ہے اور وہ موٹی ہوتی ہے پھر اپنی نالوں پر سیدھی کھڑی ہو جاتی ہے اور وہ کسان کو خوش کرتی ہے ( اس نظارہ ترقی کو دیکھ کر ) کفار پیچ و تاب کھاتے ہیں۔اس مثال میں بتایا ہے کہ حق کس طرح پر ترقی کرتا ہے اور اس کی ترقی معاندین حق کے لئے غیظ وغضب کا موجب ہوتی ہے وہ حسد و بغض سے اپنے قلب میں غم وغصہ کی موجیں اٹھتے ہوئے پاتے ہیں اور اسی غم و غصہ میں ہلاک ہو جاتے ہیں اور وہ بیج کامل نشو ونما پا کر ایک بار دار درخت بن جاتا ہے اور سدا بہار ہوتا ہے۔اس مثال میں بتایا ہے کہ حق مخالفت کی ہواؤں میں پرورش پاتا ہے یہاں تک کہ اس کے مقابلہ میں کفر ہار جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ترقی اور کامیابی میں اسی اصل کو ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے مخالفت کے طوفان میں پرورش پائی۔نہایت تیز وتند ہوائیں اس پر چلیں اس کے مثانے کے لئے کونسی تجویز اور منصوبہ تھا جو اٹھارکھا گیا ہومگر حق بڑھتا ہی رہا اور کفر مٹتا ہی رہا۔ل الفتح : ٣٠