حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 175 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 175

حیات احمد ۱۷۵ جلد پنجم حصہ دوم براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے۔هُوَا لَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَ دِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كله - دیکھو صفحہ ۴۹۸ براہین احمدیہ۔اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کہہ کر پکارا گیا ہے پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔جَرِيُّ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ - یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں۔دیکھو براہین صفحه ۵۰۴۔پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ - اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحه ۵۵۷ براہین میں درج ہے۔دنیا میں ایک نذیر آیا اس کی دوسری قراءت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یا دکیا گیا۔سواگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت ﷺ تو خاتم النبین ہیں۔پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آ سکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں ان کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت علی سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔بیشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِي اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے الاحزاب: ۴۱