حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 7 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 7

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم میرے آقا و محسن علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام عظیم الشان اور متحد یا نہ تصانیف امراض کے سخت حملوں کے ایام ہی میں لکھیں وہ مامُور مِنَ اللہ اور مؤيد باللہ تھے میں تو ایک خطا کا راور بیچمیر ز انسان ہوں ہاں میں آپ کے ذکر کو بلند کرنا چاہتا ہوں اس لئے امیدوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ توفیق روزی کرے۔اور میں پُر امید دل سے محسوس کرتا ہوں کہ جس مولیٰ کریم نے اب تک اس خصوص میں توفیق بخشی آئندہ بھی میری راہنمائی فرمائے گا۔اس لئے کہ یہ اس کا پسندیدہ کام ہے۔میری علالت اپریل ۱۹۵۵ء سے میری طبیعت گرنی شروع ہوئی مگر میں نے اسے کچھ زیادہ محسوس نہیں کیا بلکہ اس عرصہ میں تفہیم القرآن کا کام بدستور جاری رہا گوکسی قدر سستی سے بالآخر اگست میں طبیعت پر زیادہ بوجھ ہوا اور کام کرنے کی ہمت اور شوق تو تھا مگر قوت عمل میں ضعف آگیا اور اعصابی کمزوری کے ساتھ بلڈ پریشر کا حملہ ہو گیا۔آخر میں مجبور ہو گیا کہ تفہیم القرآن جس قدر لکھ گیا تھا اسے پہلا حصہ قرار دے کر شائع کردوں چنانچہ میں نے ذیل کا نوٹ لکھ کر بظا ہر قلم کو اپنے مولیٰ کو خطاب کر کے رکھ دیا۔ے سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را مگر اللہ کریم نے اپنے فضل وکرم سے میرے ڈوبتے ہوئے قلب میں موج امید کو پیدا کر دیا کہ مایوسی کفر ہے یا درکھو۔گر نباشد بدوست ره بردن شرط عشق است در طلب مُردن اس احساس کی چنگاری کو سلگتے رکھو۔اس پرشستی اعصاب اور حملہ بلڈ پریشر کے عواقب کو بھول کر میں نے بظاہر رکھے ہوئے قلم کو بوسہ دے کر ہاتھ میں لے لیا۔اور آج کے ستمبر ۱۹۵۵ء کو پھر اسی معروف ڈگر پر چلنے کے لئے اٹھا ہوں اور اسی کے فضل و کرم پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے قلم سے کہتا ہوں چل میرے خامہ بسم اللہ