حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 154
حیات احمد ۱۵۴ جلد پنجم حصہ دوم اور اپنے دماغ سے کام لے کر کچھ نہیں لکھا۔بلکہ اس میں تمام و کمال چوری کا سرمایہ جمع کر دیا اور چوری بھی مردہ کے مال کی جو ہر طرح قابل رحم تھا۔مفصلہ ذیل ثبوت پیش کرتے ہیں۔نقل محط میاں شہاب الدین ساکن بھین پہلے ہم صفائی بیان کے لئے لکھنا چاہتے ہیں کہ میاں شہاب الدین جن کا نام عنوان میں درج ہے یہ محمد حسن متوفی کے دوست ہیں اور علاوہ اس کے یہ اس بدقسمت وفات یافتہ کے ہمسایہ بھی ہیں اور اس کے اسرار سے واقف۔اور انہی کی کوشش سے پیر مہر علی شاہ کے سرقہ کا مقدمہ برآمد ہوا۔اور بڑی صفائی سے ثابت ہو گیا کہ اُس کی کتاب سیف چشتیائی مال مسروقہ ہے اور اس میں مہر علی کی عقل اور علم کا کچھ بھی دخل نہیں اور بجز اس کے کہ وہ اس کا رروائی سے نہ صرف جرم سرقہ کا مرتکب ہوا بلکہ اُس نے اس شیخی کو حاصل کرنے کے لئے بہت قابل شرم جھوٹ بولا اور اپنی کتاب سیف چشتیائی میں اُس مردہ بد قسمت کا نام تک نہیں لیا اور بڑے زور اور دعویٰ سے کہا کہ اس کتاب کا میں مؤلف ہوں۔چنا نچ نقل خطوط یہ ہے۔پہلے خط کی نقل مرسل یزدانی و مامور رحمانی حضرت اقدس جناب مرزا جی صاحب دَامَ بَرَكَاتُكُمْ وَ فَيُوْضُكُمْ۔اَلسَّلامُ عليكم ورحمة الله وبركاته۔امابعد_ آپ کا خط رجسٹری شدہ آیا۔دل غم ناک کو تازہ کیا۔روئداد معلوم ہوئی۔حال یہ ہے کہ محمد حسن کا مسودہ علیحدہ تو خاکسار کو نہیں دکھایا گیا کیونکہ اس کے مرنے کے بعد اس کی کتابیں اور سب کا غذات جمع کر کے مقفل کئے گئے ہیں۔شمس بازغہ اور