حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 6 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 6

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم نے محض اپنے فضل سے مجھے یہ سعادت بخشی کہ آغاز شباب سے اس ذکر کو بلند کرتا آیا ہوں اور اسی میں اپنے آخری سانس تک مصروف رہنے کی تمنا رکھتا ہوں۔۔حیات احمد کا کام میں نے ۱۹۱۴ء میں شروع کیا مگر اللہ تعالیٰ کی نہاں در نہاں مصلحت و مشیت نے اس میں تعویق ڈال دی۔اسباب کچھ بھی ہوں ان پر بحث کرنا مجھے پسند نہیں کہ وہ ایک داستاں درد ہے اس تعویق اور تساہل پر شاید آنے والے مؤرخ بحث کریں مجھے بجائے خود یہ شکوہ ہے کہ علی العموم (إِلَّا مَا شَاءَ الله ) میرے ساتھ تعاون نہیں ہوا باوجود اس کے کہ حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا تھا کہ یہ کتاب ہر احمدی گھر میں ہونی چاہیے وہ خواندہ ہو یا نا خواندہ (مفہوم) میں اپنے بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے اس طرز عمل پر نظر ثانی کریں یہ تو ان کے اور میرے آقا علیہ السلام کے کارنامہ زندگی کا تذکرہ ہے۔اور جس کے ذکر کو بلند کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور یہ بھی کہ اسے شائع کیا جائے۔۴۔میں نے حیات احمد کی تکمیل تین حصوں میں محدود کی تھی (۱) سوانح حیات (۲) آپ کی سیرت جس میں سیرت کے مختلف شعبے بیان کرنا مقصود ہے (۳) آپ کے مکتوبات۔ان ہرسہ شاخوں میں اَلْحَمْدُ لِلہ بہت بڑا کام اللہ تعالیٰ کے کرم سے ہو گیا۔سوانح حیات ۱۸۳۵ء سے ۱۹۰۰ء تک کے حالات پر مشتمل شائع ہو چکی اور مکتوبات کی صرف آخری جلد زیر طبع ہے اور اس طرح پر سلسلہ بِحَمْدِ اللہ مکمل ہو گیا اور سیرت کے سلسلہ میں تین جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور دو باقی ہیں اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گر کر دعا کرتا ہوں کہ مجھے توفیق تکمیل دے۔۵۔اس جلد کا آغاز ۱۹۰۱ء کے واقعات سے ہوتا ہے میرا اپنا ارادہ تو یہ ہے کہ اسے مختصر کر کے آپ کے مرفوع ہونے تک کے واقعات پر ختم کر دوں مگر میں کچھ نہیں کہ سکتا کہ آیا اس طرح پر ختم کرسکوں گا یا سابقہ اسلوب مد نظر رہے گا۔یہ پروگرام میں نے اپنی صحت کے پیش نظر تجویز کیا ہے اس وقت کہ یہ سطور لکھ رہا ہوں ضعف کے دورے ہوتے ہیں اور بلڈ پریشر کا حملہ ہے۔مگر