حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 145 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 145

حیات احمد ۱۴۵ جلد پنجم حصہ دوم ہے کہ یہ عبارتیں دوسرے نبیوں کی کتابوں میں سے لی گئی ہیں اور بعینہ وہ عبارتیں بائبل میں سے نکال کر پیش کی ہیں اور ثابت کیا ہے کہ انجیل سب کی سب مسروقہ ہے اور یہ شخص خدا کا نبی نہیں ہے بلکہ ادھر اُدھر سے فقرے چرا کر ایک کتاب بنالی اور اس کا نام انجیل رکھ لیا۔اور اس فاضل یہودی کی طرف سے یہ اس قد رسخت حملہ کیا گیا ہے کہ اب تک کوئی پادری اس کا جواب نہیں دے سکا۔یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے جو ابھی ملی ہے۔اب چونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی استاد سے سبقاً سبقاً توریت پڑھی تھی اور طالمود کو بھی پڑھا تھا اس لئے ایک شکی مزاج کے انسان کو اس شبہ سے نکلنا مشکل ہے کہ کیوں اس قدر عبارتیں پہلی کتابوں کی انجیل میں بلفظها داخل ہو گئیں اور نہ صرف وہی عبارتیں جو خدا کے کلام میں تھیں بلکہ وہ عبارتیں بھی جو انسانوں کے کلام میں تھیں مگر اس سنت اللہ پر نظر کرنے سے جس کو ابھی ہم لکھ چکے ہیں یہ شبہ پیچی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بباعث اپنی مالکیت کے اختیار رکھتا ہے کہ دوسری کتابوں کی بعض عبارتیں اپنی جدید وحی میں داخل کرے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔چنانچہ براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ہر ایک پر ظاہر ہو گا کہ اکثر قرآنی آیتیں اور بعض انجیل کی آیتیں اور بعض اشعار کسی غیر ملہم کے اس وحی میں داخل کئے گئے ہیں جوز بر دست پیش گوئیوں سے بھری ہوئی ہے جس کے منجانب اللہ ہونے پر یہ قوی شہادت ہے کہ تمام پیشگوئیاں اُس کی آج پوری ہوگئیں اور پوری ہورہی ہیں۔غرض خدائے تعالیٰ کی یہ قدیم سے عادت ہے کہ وہ اپنی وحی کی عبارتوں اور مضمونوں کو دوسرے مقام سے بھی لے لیتا ہے اور پھر جاہلوں کو اعتراض پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ان دنوں میں ایک اور شخص نے تالیف کی ہے جس سے وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ توریت کی کتاب پیدائش جو گویا تو ریت کے فلسفہ کی ایک جڑھ مانی گئی ہے ایک اور کتاب میں سے چرائی گئی ہے جو موسیٰ کے وقت میں موجود تھی تو گویا ان لوگوں کے خیال میں موسیٰ اور عیسی سب چور ہی تھے۔یہ تو انبیاءعلیہم السلام پر شک