حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 144
حیات احمد ۱۴۴ جلد پنجم حصہ دوم ایک مسلسل تقریر میں کسی کتاب کا کوئی عمدہ فقرہ بطور وحی اس کے دل پر القا کر دے تو ایسا القا اس عبارت کو اعجازی طاقت سے باہر نہیں کر سکتا۔باہر تب ہو کہ جب دوسرا شخص اس کی مثل پر قادر ہو سکے مگر اب تک کون قادر ہوا؟ اور کس نے مقابلہ کیا ؟ اور خود ادباء کے نزدیک اس قدر قلیل تو ارد نہ جائے اعتراض ہے اور نہ جائے شک۔بلکہ مستحسن ہے کیونکہ طریق اقتباس بھی ادبیہ طاقت میں شمار کیا گیا ہے اور ایک جز بلاغت کی سمجھی گئی ہے۔جو لوگ اس فن کے رجال ہیں وہی اقتباس پر بھی قدرت رکھتے ہیں ہر یک جاہل اور نبی کا یہ کام نہیں ہے۔ماسوا اس کے ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ معجزہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی تائید سے اس انشاء پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تا معارف حقائق قرآنی کو اس پیرا یہ میں بھی دنیا پر ظاہر کریں اور وہ بلاغت جو ایک بیہودہ اور لغوطور پر اسلام میں رائج ہو گئی تھی اس کو کلام الہی کا خادم بنایا جائے اور جبکہ ایسا دعویٰ ہے تو محض انکار سے کیا ہوسکتا ہے جب تک کہ اس کی مثل پیش نہ کریں۔یوں تو بعض شریر اور بد ذات انسانوں نے قرآن شریف پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ اس کے مضامین توریت اور انجیل میں سے مسروقہ ہیں اور اس کی امثلہ قدیم عرب کی امثلہ ہیں جو بِالْفَاظِهَا سَرقہ کے طور پر قرآن شریف میں داخل کی گئی ہیں۔ایسا ہی یہودی بھی کہتے ہیں کہ انجیل کی عبارتیں طالمود میں سے لفظ بلفظ چرائی گئی ہیں۔چنانچہ ایک یہودی نے حال میں ایک کتاب بنائی ہے جو اس وقت میرے پاس موجود ہے اور بہت سی عبارتیں طالمود کی پیش کی ہیں۔جو بجنسہ بغیر کسی تغیر تبدل کے انجیل میں موجود ہیں اور یہ عبارتیں صرف ایک دو فقرے نہیں ہیں بلکہ ایک بڑا حصہ انجیل کا ہے اور وہی فقرات اور وہی عبارتیں ہیں جو انجیل میں موجود ہیں اور اس کثرت سے وہ عبارتیں ہیں جن کے دیکھنے سے ایک محتاط آدمی بھی شک میں پڑے گا کہ یہ کیا معاملہ ہے اور دل میں ضرور کہے گا کہ کہاں تک اس کو تو ارد پر عمل کرتا جاؤں اور اس یہودی فاضل نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ باقی حصہ انجیل کی نسبت اس نے ثابت کیا