حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 143 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 143

حیات احمد ۱۴۳ جلد پنجم حصہ دوم جب تک زبان عرب میں پورا پورا تو غل نہ ہو اور جاہلیت کے تمام اشعار نظر سے نہ گزر جائیں اور کتب قدیمہ مبسوطه لغت جو محاورات عرب پر پر مشتمل ہیں غور سے نہ پڑھے جائیں اور وسعت علمی کا دائرہ کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک عربی محاورات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا اور نہ ان کی صرف اور نح کا باستیفاء علم ہوسکتا ہے۔ایک نادان نکتہ چینی کرتا ہے کہ فلاں صلہ درست نہیں یا ترکیب غلط ہے اور اُسی قسم کا صلہ اور اُسی قسم کی ترکیب اور اُسی قسم کا صیغہ قدیم جاہلیت کے کسی شعر میں نکل آتا ہے اور اس ملک میں جو لوگ علماء کہلاتے ہیں بڑی دوڑ اُن کی قاموس تک ہے حالانکہ قاموس کی تحقیق پر بہت جرح ہوئی ہیں اور کئی مقامات میں اس نے دھوکہ کھایا ہے۔یہ بیچارے جو علماء یا مولوی کہلاتے ہیں ان کو تو قدیم معتبر کتابوں کے نام بھی یاد نہیں اور نہ ان کو تحقیق اور تو غل زبان عربی سے کچھ دلچسپی ہے۔مشکوۃ یا ہدا یہ پڑھ لیا تو مولوی کہلائے اور پھر وہ بد ہ پیٹ کے لئے وعظ کرنا شروع کر دیا۔اگر وعظ سے کوئی عورت دام میں پھنس گئی تو اس سے نکاح کر لیا۔یا کسی گڑی پر بیٹھ کر تعویذ گنڈوں سے اپنا معاش چلایا۔پس اغراض نفسانیہ کے ساتھ زبان پر کیونکر احاطہ ہو سکے اور معارف قرآنیہ کیوں کر حاصل ہوسکیں اور لغت عرب جو صرف نحو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا نا پیدا کنار دریا ہے جو اس کی نسبت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے کہ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبِی یعنی اس زبان کو اور اس کے انواع اقسام کے محاورات کو بجز نبی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کر سکتا اس قول سے بھی ثابت ہوا کہ اس زبان پر ہر ایک پہلو سے قدرت حاصل کرنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ اس پر پورا احاطہ کرنا مجزات انبیاء علیہم السلام سے ہے یہ بات یادر کھنے کے لائق ہے کہ یہ نکتہ چینی مذکورہ بالا ایک مُسلھم کے مقابل پر کہ جو عربی نویسی میں بہت سے فقرے خدائے تعالیٰ کی طرف سے بطور الہام کے پاتا ہے بالکل بے محل ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرح پر بھی مدد دے کہ کبھی